لیفٹیننٹ گورنر نے سری نگر میں صوف اِزم کے قومی کنونشن میں شرکت کی

آج ایک تاریخی موقعہ بھی ہے جب 30برس کے وقفے کے بعد سری نگر میں محرم کا جلوس پُر اَمن طریقے سے نکالا گیا۔لیفٹیننٹ گورنرمنو ج سِنہا

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے سری نگر میں ’’تصوف: کمیونٹیوں کے درمیا ن ایک پُل‘‘ کے قومی کنونشن میں شرکت کی۔اِس کانفرنس کا اِنعقاد کلسٹر یونیورسٹی سری نگر نے جموںوکشمیر اکیڈیمی آف آرٹس ، کلچر اینڈ لنگویجز کے اِشتراک سے کیا ہے اور اس منعقدہ کانفرنس کی صدارت گورنر کیرالہ عارف محمد خان نے کی۔گورنر کیرالہ عارف محمد خان نے اَپنے خطاب میں اتحاد او ریگانگت کے جذبے کو تقویت دینے میں جموںوکشمیر کے لعل دید ، نندریشی ؒ، صوفیوں اور سنتوں کے اَنمول شراکت کو یاد کیا۔اُنہوں نے کہا کہ ان کی تعلیمات اور تحریریں اِنسانیت کے لئے مشعل راہ ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ ہمارا قدیم ورثہ ہمیں اَمن ، محبت اور اِنسانیت کا درس دیتا ہے۔ تمام مذاہب اور تمام فرقوں کے لوگ ایک کنبہ ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہماری ثقافت ، اَقدار ، روایات کا تسلسل ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے جو ہماری عظیم قوم کو پنپنے کی طاقت دیتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اِس موقعہ پر اَپنے خطاب میں جموںوکشمیر کی ثقافت اور روایات میں تصوف کے اَثرات کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے کہا،’’ تمام فرقوں ، اَفراد کے درمیان ہم آہنگی اور بلا تفریق تمام وجود کے ساتھ تعلق حقیقی تصوف ہے ۔ یہ ایسا طرزِ زندگی ہے جو لوگوں کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، محبت اور اَمن کے نظریات کو فروغ دیتا ہے اور اس کی تشہیر کرتا ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر رشیوں او رصوفیوں کی سرزمین ہے ۔ یہ وہ سرزمین ہے جو تمام روحانی اور مذہبی سلسلوں کا احترام کرتی ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے اِس سرزمین میں مصیبتیں پیدا کی تھیں ان کا اور ان کے حامیوں کو قلع قمع کیا تاکہ سماج میں اَمن او رہم آہنگی قائم ہو ۔اُنہوں نے کنونشن میں اَمن ، خوشحالی اور جامع ترقی کی طرف جموںوکشمیریوٹی کے تبدیلی کے سفر کا اِشتراک کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس سے قبل وادی میں مٹھی بھر لوگوں کی طرف سے اَپنے ذاتی مفادات کے لئے شٹ ڈائون کالز ایک باقاعدہ خصوصیت تھی تاہم اس کا خمیازہ عام آدمی کو ہی اُٹھانا پڑتاتھا ۔اُنہوں نے کہا کہ اَب وہ دِن گئے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ اَمن قائم ہے ، رات کی زندگی لوٹ آئی ہے اور لوگ آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ آج ایک تاریخی موقعہ بھی ہے جب سری نگر میں زائد اَز 30 برس کے وقفے کے بعد محرم الحرام کا جلوس پُر اَمن طریقے سے نکالا گیا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے گورنر کیرالہ عارف محمد خان کا شکریہ اَدا کیا کہ اُنہوں نے اِس موقعہ کو خوش آمدید کہا او رشرکأ کو اَپنی حکمت بھرے اَلفاظ اور انمول باتوں سے روشنا س کیا۔اُنہوں نے کلسٹر یونیورسٹی سری نگر اور جے اینڈ کے اکیڈیمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لنگویجز کو صوفی روایات کو فروغ دینے کی کوششوں پر مُبارک باد دی۔اُنہوں نے لوگوں سے ریشی صوفی روایات کو اَپنانے اور اِتحاد کو مضبوط بنانے کے لئے فرقہ وارانہ تقسیم کے تمام نشانات کوختم کرنے کی بھی اپیل کی۔وائس چانسلر کلسٹر یونیورسٹی سری نگر پروفیسر قیوم حسین نے کنونشن کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔اِفتتاحی تقریب میں لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر ، پد م شری ڈاکٹر ایس پی ورما ، مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں ، جموں وکشمیر یوٹی کے سینئر اَفسروں ، معزز شہریوں اور طلباء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔