لیفٹیننٹ گورنر نے تیسرے سی آئی آئی جے اینڈکے ہیلتھ کنکلیو کا اِفتتاح کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے تیسرے سی آئی آئی جے اینڈکے ہیلتھ کنکلیو کا اِفتتاح کیا

لیفٹیننٹ گورنر نے ’’ ہیلتھ سروسز اینی ٹائم، اینی وئیر‘‘ کے ویژن کو اُجاگر کیا

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آئی آئی سی جے اینڈ کے ہیلتھ کنکلیو کے تیسرے ایڈیشن کا اِفتتاح کیا۔ اُنہوںنے ’’ہیلتھ سروسز اینی ٹائم، اینی ویئر‘‘ کے تبدیلی لانے والے ویژن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحت شعبے کے مستقبل کی تشکیل میں جدت، مضبوطی اور شامل نموکے کردار کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے اُجالا سائیگنس کی جانب سے اپنے نئے اقدام ’’پیس اینڈ ویل بیئنگ فاؤنڈیشن‘‘ کے آغاز پر نیک خواہشات کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کنکلیو تبادلہ خیال کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے اور جموں و کشمیر سمیت دیگر ریاستوں میں صحت خدمات کی فراہمی کو ازسرِنو متعین کرنے کا اِجتماعی موقع فراہم کرتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے ایک آشا کارکن کی مثال دیتے ہوئے جو ٹیلی کنسل ٹیشن کے ذریعے دُور دراز دیہاتوںکے مریضوں کو ضلعی ہسپتالوں سے جوڑتی ہے، کہا کہ ٹیلی میڈیسن ایک اِنقلابی قدم ہے جو جغرافیائی رُکاوٹوں کو ختم کرتا ہے۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کو اِنسانیت کی خدمت کرنی چاہیے تاکہ سب سے دُور دراز کمیونٹیز بھی بروقت طبی سہولیات تک رسائی حاصل کرسکیں۔اُنہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ذرائع سے ایسے حل تلاش کرنے کی ترغیب ملنی چاہیے جن کے ذریعے تمام شہریوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات آسانی سے دستیاب ہوں۔ اُنہوں نے شراکت داروں پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کو کم لاگت اور زیادہ مؤثر اختراعات کے لئے ایک لیب بنایا جائے جن میں ڈرون کے ذریعے طبی سامان کی ترسیل اور بلند پہاڑی علاقوں میں قائم صحت مراکز کے لئے سولر اَنرجی سے چلنے والے کولڈ چین نظام شامل ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے عالمی صحت کے نظام کو درپیش تین اہم چیلنجوں کا ذکر کیا جن میں ہیلتھ کیئر کے اخراجات میں مسلسل اضافہ بھی شامل ہے۔ اُنہوں نے مہنگے علاج پر انحصار کم کرنے کے لئے بیماریوں سے بچاؤ، اِبتدائی مرحلے میں مداخلت اور باقاعدگی سے طبی سکریننگ کی طرف تبدیلی پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا، ’’ہمیں ایسے نظام سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے جو صرف بیماری کا علاج کرے اور ایسے نظام کی طرف جانا ہوگا جو صحت کا تحفظ اور فروغ کرے۔ ہمیں باقاعدگی سے سکریننگ، بنیادی صحت کی خدمات تک آسان رَسائی اور بروقت علاج کو ترجیح دینی چاہیے۔‘‘منوج سِنہا نے تربیتی صلاحیتوں میں توسیع، طبی عملے کی فلاح و بہبود اور صحت کی خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کے لئے ٹیلی میڈیسن سے اِستفادہ کرنے پر بھی زور دیا۔اُنہوں نے کہا، ’’ہمیں طبی اور نرسنگ تعلیم میں تربیتی صلاحیت کو بڑھانے اور ٹیلی میڈیسن کے ذریعے دیہی و دُور دراز علاقوں میں صحت کی خدمات تک رسائی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے ہیلتھ ورکروں کی فلاح و بہبود کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ بہتر اَفرادی قوت، اِنتظامی بوجھ میں کمی اور ذہنی صحت کی مدد مضبوط صحت کے نظام کی بنیادی ضروریات ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں صحت کی خدمات تک رسائی، استطاعت اور یونیورسل اِنشورنس کوریج کو یقینی بنایا گیا ہے اور صحت کی عدم مساوات کو ختم کیا گیا ہے۔اُنہوں نے کہا، ’’ وزیر اعظم کی قیادت میں ملک بھر میں محفوظ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے صحت کے ریکارڈز کو باہم منسلک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سے کسی بھی مجاز ڈاکٹر کو، وہ جہاں کہیں بھی موجود ہو، چند ہی لمحوں میں مریض کی طبی تاریخ تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔ ساتھ ہی مریض کو اِس بات پر مکمل اختیار حاصل رہے گا کہ اس کی معلومات کون دیکھ سکتا ہے اور کتنی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے صحت کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی نمایاں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دو نئے ایمز ادارے، 10 نئے میڈیکل کالج، دو سٹیٹ کینسر اِنسٹی چیوٹ، بون اینڈ جوائنٹ اور پیڈیاٹرک سہولیات کے لئے مخصوص ہسپتال، 52 نرسنگ کالج، 23 پیرا میڈیکل کالج اور پانچ فارمیسی کالج قائم کئے گئے ہیں۔ اُنہوں نے ان اقدامات کو سماجی اِنصاف اور مساوی طبی سہولیات کی جانب تاریخی قدم قرار دیا۔اُنہوں نے کنکلیو کے شرکأ پر زور دیا کہ وہ چند اہم ترجیحات پر غور و خوض کریںجن میں ہر گاؤں میں جدید بنیادی صحت مراکز کا قیام اور انہیں ضلعی صحت کے نیٹ ورک سے منسلک کرنا، ڈاکٹروں کے فیصلوں میں معاونت کرتے ہوئے بیماریوں کی ابتدائی تشخیص کے لئے آرٹیفیشل اِنتلی جنس( اے آئی) کا استعمال، بیماریوں کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا، جینومک صلاحیت میں اضافہ، تشخیصی کٹس کی مقامی سطح پر تیاری، اور نرسنگ و پیرا میڈیکل اداروں، مسلسل ہنر مندی کی ترقی اور حکومت و نجی شعبے کے درمیان مضبوط تعاون کے ذریعے صحت شعبے کے لئے ایک مضبوط افرادی قوت تیار کرنا شامل ہے۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا، ’’جدید علاج اور جدید طبی سہولیات سب کے لئے قابلِ رسائی ہونی چاہئیں تاکہ ہم سماجی اِنصاف اور مساوات کے اصولوں کو قائم کر سکیں۔ کسی فرد یا کنبہ کی صحت معاشرے کے مواقع، پیداواری صلاحیت اور مجموعی فلاح و بہبود کو متاثر کرتی ہے۔‘‘اِفتتاحی تقریب میں چیئرمیں آئی آئی سی جموں و کشمیر یو ٹی کونسل اکرام علی شفیع،بانی ڈائریکٹر اُجالا سائیگنس ہسپتال ڈاکٹر شوچن بجاج،وائس چیئرمین آئی آئی سی جموں و کشمیر سدھانت چودھری، پیس اینڈ ویل بیئنگ فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان ڈاکٹر پرویز احمد صوفی اور عرفات احمد بٹ، کنفیڈریشن آف انڈین اِنڈسٹری (آئی آئی سی) کے ممبران اور ہیلتھ کیئر پروفیشنلز نے شرکت کی۔اِس موقعہ پرایس ایس پی ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی، ضلع ترقیاتی سر ی نگر اَکشے لابرو اور سینئر اَفسران بھی موجود تھے۔