لیفٹیننٹ گورنر نے تاریخی روجیلا ٹنل کی بریک تھرو کو حقیقت بنانے کیلئے

وزیر اعظم اورمرکزی وزیر ٹرانسپورٹ و ہائی ویز کا شکریہ اَدا کیا

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہا نے مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ و ہائی ویزنتن گڈکری کے ہمراہ تاریخی روجیلا ٹنل کی بریک تھرو تقریب میں شرکت کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے اس خواب کو حقیقت بنانے پر وزیر اعظم نریندرمودی اور مرکز وزیرنتن گڈکری کا شکریہ اَدا کیا اور کہا کہ یہ تاریخی پروجیکٹ جموں و کشمیر اور لداخ کے لئے رابطے اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔ایشیا کی سب سے طویل دو طرفہ ٹنل وادیٔ کشمیراور لداخ کے درمیان سال بھر رابطے کا نیا مستقبل باب رقم کر رہی ہے۔ یہ انجینئرنگ کا شاہکار سفری وقت میں نمایاں کمی لائے گا، محفوظ سفر کو یقینی بنائے گا اور ایندھن کی خاطر خواہ بچت فراہم کرے گا۔اُنہوں نے کہا،’’بلاشبہ آج کا دن ایک تاریخی دن ہے۔ میں جموں و کشمیر اور لداخ یونین ٹیریٹریوں کے لوگوںکو دل کی گہرائیوں سے مُبارک باد پیش کرتا ہوں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور مرکزی وزیر نتن گڈکری کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں زو جیلا ٹنل اس خطے کے لئے ایک لائف لائن بن کر اُبھرے گی جو سپلائی چین کو مضبوط کرے گی، سیاحت کو فروغ دے گی اور ہماری آرمد فورسز کو اہم سٹریٹجک مدد فراہم کرے گی۔‘‘اُنہوںنے مرکزی وزیر کے ہمراہ ٹنل کا معائینہ کیا اور انجینئروں، عملے اور مزدوروں کی انتھک محنت کو سراہا جنہوں نے اتنی بلندی پر انتہائی مشکل موسمی حالات میں دن رات کام کیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’کنکٹویٹی ترقی کی بنیاد ہے اور یہ معاشی خوشحالی لاتی ہے۔ گزشتہ 12 برسوں میں اس شعبے میں ملک بھر میں غیر معمولی کام ہوا ہے۔ ان خطوں میں سڑک، فضائی اور ریلوے رابطوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔‘‘جموں و کشمیر اور لداخ میں جاری منصوبوں کے پیمانے کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ اس سے نہ صرف تجارت اور سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ بالخصوص سرحدی علاقوں میں قومی سلامتی کو بھی نمایاں طور پر تقویت ملے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’میں امید کرتا ہوں کہ یہ منصوبہ جلد از جلد مکمل ہو کر لداخ اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے نام وقف کیا جائے گا۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ اس عظیم الشان انفراسٹرکچر کی تکمیل سے بابا امرناتھ جی کے یاتریوں کو ملک بھر سے جموں و کشمیر آنے میں بڑی سہولیت حاصل ہوگی۔اُنہوں نے کہا ،‘‘ چیئرمین شری امرناتھ جی شرائن بورڈ کی حیثیت سے میں ایک بار پھر اس کامیابی کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘تقریباً 14 کلومیٹر طویل دو طرفہ ٹنل جس کی لاگت تقریباً 6,800 کروڑ روپے ہے، 2,900 میٹر سے 3,310 میٹر کی بلندی پر تعمیر کی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ دنیا کے مشکل ترین پہاڑی تعمیراتی منصوبوں میں سے ایک ہے اور ہندوستان کی شاندار اِنجینئرنگ صلاحیت کا مظہر ہے۔اِس ٹنل میں جدید ترین حفاظتی اور آپریشنل سہولیات شامل ہوں گی جن میں جدید وینٹی لیشن نظام، خودکار آگ کا پتہ لگانے کا نظام، جدید سی سی ٹی وی نگرانی اور پیدل چلنے والوں کی حفاظت کے لئے کراس پیسچز شامل ہیں۔اِس پروجیکٹ میں آٹھ کٹ اینڈ کور سیکشنز، چار پل، چالیس کلورٹس، برف سے بچاؤ گیلریاں، کیچ ڈیمز، برفانی تودہ روکنے کے ڈھانچے، اپروچ روڈز اور دیگر جدید حفاظتی اقدامات بھی شامل ہیں۔مکمل ہونے پر زو جیلا ٹنل پروجیکٹ سونہ مرگ اور منی مرگ کے درمیان سفر کا وقت تقریباً دو گھنٹے سے کم ہو کر تقریباً تیس منٹ رہ جائے گاجس سے وقت اور ایندھن دونوں کی نمایاں بچت ہوگی۔