سرینگر//حکومت نے لفٹینٹ گورنر منوج سنہا کی ہدایت پر قبائلی طلباء کی تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے خصوصی پروجیکٹوں کیلئے عمل شروع کیا ہے جس میں 20 نئے ہوسٹلز ، ماڈل رہائشی اسکولوں اور طلباء کیلئے خصوصی اسکالرشپ اسکیم کا قیام شامل ہے ۔ ان تجاویز کو آج سرینگر میں منعقدہ یو ٹی لیول کمیٹی کے اجلاس میں حتمی شکل دی گئی ۔ سیکرٹری قبائلی امور ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے اجلاس کی صدارت کی جس میں سپیشل سیکرٹری محمد ہارون ، ڈائریکٹر قبائلی امور مشیر احمد مرزا ، سیکرٹری ایڈوائیزری بورڈ مختار احمد ، جوائینٹ ڈائریکٹر پلاننگ شمع ان احمد ، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالخبیر ، نوڈل آفیسرز ، ارشد حسین اور مختار احمد سمیت کئی دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔ محکمہ نے 20 نئے ہوسٹل کے قیام کی منظوری دی جس میں 3000 طلباء کی گنجائش موجودہ مالی سال میں شروع کی جائے گی جس کیلئے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریاستی اراضی فراہم کی جائے گی ۔ حکومت قبائلی طلباء کیلئے اگلے دو برسوں میں 50 نئے ہوسٹل قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ موسمی مراکز میں داخلہ لینے والے طلباء کیلئے خصوصی اسکالر شپ اسکیم وضع کرنے کیلئے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ کا بھی جائیزہ لیا گیا ۔ نئی اسکیم میں 2400 روپے تک بڑھتے ہوئے اسکالر شپ کی پیشکش کی گئی ہے جو لڑکوں کیلئے 450 روپے اور لڑکیوں کیلئے 675 روپے کے موجودہ سلیب کی جگہ لے رہی ہے ۔ نئی اسکیم سے 1200 موسمی تعلیمی مراکز میں 34000 سے زائد طلباء مستفید ہوں گے ۔ دریں اثنا 10 نئے ایکلویہ ماڈل رہائشی اسکولوں کی بھی سفارش کی گئی ہے جبکہ 6 ای ایم آر ایس اس ماہ کام کر رہے ہیں جن میں اننت ناگ ، کولگام ، بانڈی پورہ ، پونچھ اور 2 راجوری میں ایک ایک اسکول شامل ہیں ۔










