سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ’’ عوام کی آواز‘‘ پروگرام کے 18ویں قسط میں اعتماد اور شفافیت کو بہتر حکمرانی کا دِل قرار دیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے پونچھ ، کشتواڑ اور ڈوڈہ کے تین اَضلاع کے اَپنے حالیہ دوروں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ محنت ، قابلیت ، دیانتدار اور لوگوں کی خدمت کے لئے وَفاداری نے پونچھ ڈوڈہ اور کشتواڑ کے تین اَضلاع میں دِلچسپ نئے اِمکانات اور مواقع کھولے ہیں جنہیںکئی دہائیوں سے نظر اَنداز کیا گیا تھا ۔اُنہوں نے کہا کہ سرکاری سکیموں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی ٹھوس کوششوں سے مطلوبہ نتائج حاصل ہو رہے ہیںاور لوگ اَپنے حقوق اور فرائض سے باشعور ہوچکے ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ اِنتظامیہ میں شفافیت اور پالیسیو ں کی عمل آوری سے ایک تعمیر ی نظام کو فروغ دینے میں مددملی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ ترقی کی ترجیحات اور امرت کال کھنڈ میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے پُر عزم ہے۔اُنہوں نے زور دے کر کہا کہ مساوات اور سماجی ہم آہنگی کی راہ پر چل کر ہم خود اَنحصاری جموںوکشمیر کے ہدف کو حاصل کرسکتے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک نئے ترقی پسند معاشرے کی تشکیل ممکن ہے اگر ہر فرد حساس ہو اور مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کرے۔اُنہوں نے بانڈی پورہ کے دو نوجوانوں سول اِنجینئر بنت الاسلام اور شبنم مسعود کی کوششوں کی سراہنا کی جنہوں نے سڑکوں کو موسم سرما میں ہونے والے نقصان کو روکنے کے لئے راستہ توڑنے والا حل نکالا ہے ۔اُنہوں نے سڑکوں کو کفایتی بنانے کے لئے بائیو میڈیکل پلاسٹک ویسٹ کو سڑک کی تعمیر میں استعمال کیا جائے۔منوج سِنہا نے کہا کہ وادی کشمیر میں برفباری کے دوران سڑکیں بُری طرح ٹوٹ پھوٹ اور خستہ ہوجاتی ہیں جس سے لوگوں کو تکلیف اور مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے اور آمدنی کا نقصان ہوتا ہے ۔ اُنہو ں نے کہا کہ یہ دونوں بیٹیاں اس سے پریشان تھیں اور اُنہوں نے تبدیلی لانے کی مخلصانہ کوشش کیں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے شہریوں کی متاثر کن داستانیں بھی شیئر کیں جو دوسروں کی زندگی میں اثر اَنداز ہوتی ہے اور معاشرے میں زبر دست تبدیلی لارہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ضلع رِیاسی کی کوٹھیان پنچایت کی سرپنچ نیلم شرما کی داستان واقعی متاثر کن ہے ۔ وہ خواتین کو بااِختیار بنانے کے مظہر ہیں ۔نیلم شرما نے ضلعی اِنتظامیہ کی مدد سے ڈوگرہ ہاٹ کی بنیاد رکھا اور دیگر خواتین کو خود انحصار ہونے کی ترغیب دی۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس کی قابل تحسین تبدیلی کی کوشش کو علاقے میں دیہی ترقی اور سماجی بااختیار بنانے کے لئے عظیم کام کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے بڈگام ضلع کے دو گائوں سنگلی پورہ اور لکشمن پورہ کے ماسٹر قالین بُننے والوں کے بارے میں بھی بات کی جو پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے لئے 12 قالین بنا رہے ہیں۔ بڈگام کے بُنکر ہمار فخر ہیں۔ بڈگام کے روایتی ہاتھ سے بُنے ہوئے قالین پارلیمنٹ کی نئی عمارت کو سجانے کے لئے تیار ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقعہ ہے اور جموںوکشمیر کی دستکاری کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔منوج سِنہا نے راجوری کے ترقی پسند کسانوں دیویندر کمار اور انجم جاوید اور کٹھوعہ کے دھیرج شرما کی پُر عزم کوششوں کا بھی اعتراف کیا جنہوں نے شہتوت اورسیب کی ہائی ڈینسٹی کاشت کاری شروع کی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے اودھمپور کے نتیش کھجوریہ کی جانب سے ’ شرمدان‘ کلچر کو فروغ دینے اور ترقیاتی پروجیکٹوں میں شامل کار کنوں کو سہولیت فراہم کرنے سے متعلق ایک تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اَفسران کو ضروری کارروائی کرنے کے لئے حساس بنایا جائے گا۔لیفٹیننٹ گورنرنے جموں کی امبیکا سمنوترا سے موصول ہونے والے اِن پُٹس کی بھی سراہنا کی جنہوں نے لیک بیو ٹیفکیشن اور ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ کے بارے میں لکھا ہے اور تمام بڑے دریائوں اور جھیلوں کے لئے ایک مربوط منصوبہ تجویر کیا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ سری نگر کے عمر دیوانی کی طرف سے ایک اور قیمتی تجویز موصول ہوئی جس نے سیاحت اور مہمان نوازی شعبے کو تقویت دینے کے لئے مختلف سیاحتی اور پیدل سفر کے مقامات پر گلیمپنگ ڈومز کو فروغ دینے اور مقبول بنانے پر زور دیا۔اِسی طرح اکھنور جموں کے راجیش چِب نے وِلیج ٹوراِزم اور ہوم سٹے کے قیام کو فروغ دینے کے لئے پنچایتی راج اِداروں کے نمائندوں کی شمولیت کی ضرورت پر لکھا تھا۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ایل جی رولنگ ٹرافی کی توسیع کے سلسلے میں کپواڑہ سے مقصود احمد اور سری نگر سے شبیر احمد شاہ کی تجویز پر مشن یوتھ کو ہدایات جاری کیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے محکمہ صحت کو گاندربل کے فاروق گاندربلی کی تجویز کا مطالعہ کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں جنہوں نے جموںوکشمیر میں میڈیکل ٹوراِزم کے بارے میں لکھا تھا۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے تمام شہریوں کو توراتری اور دُرگا پوجا کے آنے والے موقعہ پرمبارک باد بھی دی ۔اُنہوں نے شہریوں سے 2؍ اکتوبر کو مہاتما گاندھی کے یوم پیدائش کے موقعہ پر اَپنے علاقوں میں شرمدان سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اپیل کی۔










