ضلع پلوامہ دودھ کی پیدوار میں سب سے آگے ہے:چیف انیمل ہسبنڈری آفیسر

سری نگر//ضلع پلوامہ دودھ کی پیدوار میں سب سے آگے ہے اور روزانہ یہاں سے 8.5 لاکھ لیٹر دودھ برآمد ہوتا ہے رواں سال 18 بے روزگار نوجوانوں نے مویشیوں کے یونٹ قائم کیے۔ان خیالات کا اظہار چیف انیمل ہسبنڈری آفیسر پلوامہ ڈاکٹر محمد حسین وانی نے کیا۔ وادی کشمیر میں سب سے زیادہ دودھ پلوامہ سے برآمد ہوتا ہے اسی لئے پلوامہ ضلع کو آنند آف کشمیر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ضلع میں دودھ کی پیدوار کو مزید بڑھاوادینے کے ساتھ ساتھ مویشیوں کو صحت مند اور تندرست رکھنے کے لیے ہر طرح کی طبی سہولیات دستیاب رکھنے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔چیف انیمل ہسبنڈری آفیسر پلوامہ ڈاکٹر محمد حسین وانی نے کہا کہ پلوامہ ضلع سے روزانہ 8.5 لاکھ لیٹر دودھ برآمد کیا جاتا ہے اور رواں سال دسمبر تک 207 ہزار ٹن دودھ کی پیداوار برآمد کی گئی ہے جبکہ اس سال کے آخر تک دودھ برآمد کرنے کا نشانہ 3سو 10ہزار ٹن مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں 96 ویٹنری سنٹر سرگرم عمل ہیں جہاں پر مویشیوں کے علاج و معالجہ کیلئے عملہ دستیاب ہے .چیف انیمل ہسبنڈری آفیسر پلوامہ ڈاکٹر محمد حسین وانی نے نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ضلع پلوامہ سے جو دودھ حاصل ہوتا ہے اس میں 30% ضلع میں ہی خرچ ہوتا ہے اور 70% دودھ سرینگر ،کپوارہ بارہ مولہ بڈگام یہاں تک کہ بانہال تک جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال کے دوران 62 ہزار آرٹیفیشل inseminations کروائے گئے۔ اس مدت کے دوران 13 ہزار 832 بچھڑے پیدا ہوئے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ ضلع کے تمام ویٹنری سنٹروں میں مویشیوں کیلئے ہر ممکن طبی سہولیات دستیاب رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سال 2021 دسمبر تک مویشیوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے 1 لاکھ 56 ہزار 933 ٹیکے لگائے گئے۔انہوں نے کہا کہ ضلع میں 1100 پولٹری فارم ہے اور سال کے دوران 23 لاکھ 99 ہزار 830 پولٹری کو ٹیکے لگائے گئے۔چیف انیمل ہسبنڈری آفیسر پلوامہ ڈاکٹر محمد حسین وانی نے بات کرتے ہوئے مزید کہا 18 بے روزگار نوجوانوں نے اس سال مویشوں کے یونٹ چالو کئے اور 56 مزید کی منظوری آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ کے پاس بے روزگار نوجوانوں کے لیے مویشی اور پولٹری سیکٹر میں اسکیمیں موجود ہیں جس کی مدد سے وہ اپنا روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔