صحت کی دیکھ بھال میں ملک نے کافی ترقی کی ہے :مرکزی وزیر

بھارت میں زچگی کی شرح اموات میں نمایاں کمی:ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ

سرینگر//مرکزی وزیر صحت نے کہا ہے کہ بھارت میں زچگی شرح اموات میں کافی کمی واقع ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ، ہندوستان نے قابل رسائی معیاری زچہ اور نوزائیدہ صحت کی خدمات فراہم کرنے اور روکے جانے والی زچگی کی اموات کو کم سے کم کرنے کی ٹھوس کوشش کی ہے۔ قومی صحت مشن نے صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خاص طور پر ایم ایم آر کے مخصوص اہداف کو پورا کرنے کے لیے ماں کی صحت کے پروگراموں کے موثر نفاذ کے لیے اہم سرمایہ کاری کی ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق ایک نئے سنگ میل میں، ملک میں زچگی کی شرح اموات (ایم ایم آر) میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کامیابی پر ملک کو مبارکباد دیتے ہوئے، صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر منسکھ منڈاویہ نے زچگی کی شرح اموات (ایم ایم آر( کو موثر طریقے سے کم کرنے میں قابل ذکر پیش رفت کی تعریف کی اور ایک ٹویٹ میں کہا:زچگی کی شرح اموات میں نمایاں کمی 16-2014 میں 130 سے 20-2018 میں 97 فی لاکھ زندہ پیدائش ہوگئی۔ معیاری زچگی اور تولیدی نگہداشت کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی جی کی حکومت کے صحت کی دیکھ بھال کے مختلف اقدامات نے ایم ایم آر کو نیچے لانے میں زبردست مدد کی۔رجسٹرار جنرل آف انڈیا (آر جی آئی) کے ذریعہ جاری کردہ ایم ایم آر پر خصوصی بلیٹن کے مطابق، ہندوستان کے زچگی کی شرح اموات (ایم ایم آر) میں شاندار 6 پوائنٹس کی مزید بہتری آئی ہے اور اب یہ 97لاکھ زندہ پیدائش پر قائم ہے۔ زچگی کی شرح اموات کا تناسب (ایم ایم آر( ایک مقررہ مدت کے دوران فی 1,00,000 زندہ پیدائشوں کے دوران زچگی کی اموات کی تعداد کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔اس کو حاصل کرنے پر، ہندوستان نے 100/لاکھ سے کم زندہ پیدائشوں کے ایم ایم آر کے لیے قومی صحت کی پالیسی (این ایچ پی( کے ہدف کو پورا کر لیا ہے اور 2030 تک 70/ لاکھ زندہ پیدائشوں سے کم ایم ایم آر کے ایس ڈی جی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے صحیح راستے پر ہے۔پائیدار ترقی کے ہدف (ایس ڈی جی) کے ہدف کو حاصل کرنے والی ریاستوں کی تعداد کے لحاظ سے نمایاں پیش رفت ہوئی، اب یہ تعداد چھ سے بڑھ کر آٹھ ہو گئی ہے جس میں کیرالہ (19 )سرفہرست ہے، اس کے بعد مہاراشٹرا (33)، پھر تلنگانہ (43 )ہے اور آندھرا پردیش (45،( اس کے بعد تامل ناڈو (54)، جھارکھنڈ (56)، گجرات (57) اور آخر میں کرناٹک (69) ہے۔2014 کے بعد سے، نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت، ہندوستان نے قابل رسائی معیاری زچہ اور نوزائیدہ صحت کی خدمات فراہم کرنے اور روکے جانے والی زچگی کی اموات کو کم سے کم کرنے کی ٹھوس کوشش کی ہے۔ قومی صحت مشن نے صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خاص طور پر ایم ایم آر کے مخصوص اہداف کو پورا کرنے کے لیے ماں کی صحت کے پروگراموں کے موثر نفاذ کے لیے اہم سرمایہ کاری کی ہے۔ ’’جننی شیشو سرکشا کاریہ کرم‘‘اور’’جننی سرکشا یوجنا‘‘ جیسی سرکاری اسکیموں میں ترمیم کی گئی ہے اور انہیں سرکشت ماترتوا اشواسن(سمن)جیسے زیادہ یقینی اور باعزت خدمات کی فراہمی کے اقدامات میں اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان (پی ایم ایس ایم اے) کی خاص طور پر تعریف کی جاتی ہے ۔