شہریوں پرحملوں اورملی ٹنٹ کارروائیوںمیں کمی واقعہ:مرکزی وزیر مملکت

سری نگر //مرکزی وزارت داخلہ نے جموں وکشمیر میں شہری ہلاکتوںمیں کمی کادعویٰ کرتے ہوئے بدھ کوکہاکہ رواں سال ماہ جون تک کل 7 شہریوں پر حملہ کیا گیا ۔جے کے این ایس کے مطابق مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیانندرائے نے راجیہ سبھامیں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھرگے کے ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے ایوان کوبتایاکہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس سال 30جون تک جموں و کشمیر میں کل 7 شہریوں پر حملہ کیا گیا تھا۔انہوںنے بتایاکہ سال2021 میں شہریوں پر حملوں کی تعداد 12 تھی جبکہ سال2019اور2020میں شہریوں پر کل ملاکر28حملے کئے گئے تھے ۔مرکزی وزیر کاکہناتھاکہ سال2019سے شہریوں پر حملوں میں کمی کااندازہ ان اعدادوشماے سے لگایاجاسکتا ہے کہ سال2018میں 33شہریوں پر ملی ٹنٹوںنے حملے کئے گئے ۔ انہوںنے ملی ٹنٹ حملوں میں بھی سال2019سے کمی کادعویٰ کیا۔مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیانندرائے نے ایوان بالا کوجانکاری دی کہ سال2018میں کل417ملی ٹنٹ حملے ہوئے تھے ،جن میں سال2019سے خاطرخواہ کمی آئی ۔انہوںنے کہاکہ سال2019میں ملی ٹنٹوں نے255،سال2020میں244اورسال2021میں کل229حملے کئے ۔کانگریس سے وابستہ راجیہ سبھامیں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھرگے کاجواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیانندرائے نے ایوان کوبتایاکہ حکومت پچھلے چند مہینوں میں کشمیری پنڈتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں سے واقف تھی؟ ۔انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت نے وادی میں اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ ان میں ایک مضبوط سیکورٹی اور انٹیلی جنس گرڈ، دن اور رات کے علاقے پر تسلط، دہشت گردوں کے خلاف گشت اور فعال کارروائیاں، ناکوں پر چوبیس گھنٹے چیکنگ، کسی بھی دہشت گرد حملے کو ناکام بنانے کے لیے اسٹریٹجک مقامات پر روڈ اوپننگ پارٹیوں کی تعیناتی شامل ہے۔مرکزی وزیرمملکت نے کہا کہ حکومت کی دہشت گردی کیخلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی ہے اور جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔