ہر گزرتے دن کے ساتھ پرندوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، آنے والے مہینوں میں مزید اضافے کی توقع / افشان دیوان
سرینگر // شدید سردی کی لہر کے بیچ دنیا کے مختلف حصوں سے لاکھوں کے قریب مہان پرندے وارد کشمیر ہوئے ہیں اور مزید پرندوں کے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔مہمان پرندوں کی آمد سے کشمیر کے ویٹ لینڈس کی رونق دوبالا ہو گئی ہے جبکہ ویٹ لینڈس کے منتظمین مہمان پرندوں کی خاطر داری میں مصرو ف عمل ہے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق وادی میں سردی کی لہر جاری ہے اور رات کے درجہ حرارت میں مزیدکمی ہو رہی ہے۔ پوری وادی سردی کی شدید لپیٹ میں آگئی ہے اور لوگوں نے کانگڑیوں اور گرم ملبوسات کا استعمال کرنا شروع کردیا گیا ہے جبکہ کانگڑیاں اور کوئلہ خریدنے کے سلسلے میں لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں ادھر ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد بھی مختلف بازاروںمیں گرم ملبوسات خریدتے ہوئے دیکھے گئے۔سردی کا موسم شروع ہونے کے ساتھ ہی لاکھوں کے قریب مہمان پرندوں نے آبی پناہگاہوں کے اردگرد اپنا ڈیرہ ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے وادی کشمیر میں آبی پناہگاہوں ، دریائوں ، ندی نالوں کے آس پاس بڑی تعداد میں مہمان پرندے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ویٹ لینڈ کے ایک سینئر آفیسر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر چہ جھاڑے کے موسم میں دستک دی ہے تاہم اس کے ساتھ ہی مختلف ملکوں سے مہمان پرندوں کے آنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے محکمہ کی جانب سے جو اعداد وشمار جمع کئے گئے ہیں انکے مطابق چار لاکھ کے قریب پرندے اس وقت آبی پناہگاہوں ، ندی نالوں ، دریائوں کے اردگر دڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور مزید دو سے ڈھائی لاکھ پرندوں کے کشمیر وارد ہونے کا امکان ہے۔ ادھر مہمان پرندوں کی آمد کیساتھ ہی ویٹ لینڈس کی رونق دوبالا ہو گئی ہے جبکہ مہمان پرندوں کی خاطر داری میں ویٹ لینڈ کے ملازمین مصروف عمل ہے ۔ ادھر کشمیر ویٹ لینڈس کے وائلڈ لائف وارڈن افشان دیوان نے بتایا کہ ہمارے مختلف ویٹ لینڈس اور دیگر آبی ذخائر میں تقریباً چھ ماہ تک رہتے ہیں۔ جب درجہ حرارت میں کمی کی وجہ سے پانی جم جاتا ہے، تو یہ پرندے ہندوستان کے دوسرے حصوں میں چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے تمام نو آبی علاقوں میں تقریباً دو لاکھ نقل مکانی کرنے والے پرندوں کا پہلے ہی خیرمقدم کیا جا چکا ہے، آنے والے مہینوں میں ان میں اضافے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ، پرندوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، اور فروری تک، گیلی زمینیں پرندوں سے بھر جائیں گی۔دیوان نے مزید کہا کہ فروری میں ہونے والی سالانہ پرندوں کی مردم شماری مسلسل وادی میں پرندوں کی 60 سے 70 مختلف اقسام کو ظاہر کرتی ہے۔










