باغ مالکان ومیوہ بیوپاریوں کو مشکلات ،انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل
سرینگر / /وادی کشمیر میں آئندہ کئی مہینوں سے سیب اتارنے کا سیز ن عروج پر ہے لیکن خالی ڈبوں ( باردان ) کی عدم دستیابی کے باعث باغ مالکان اور بیوپاری پریشان حال ہیں اور وہ میوہ جات کو بیرون ریاستوں کو بیجنے سے قاصر رہتے ہیں اس سے میوہ ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہے ۔کشمیر پریس سروس نمائندہ نذیر چکسری کے موصولہ اطلاعات کے مطابق میوہ جات اتارکر ڈبوں کی کمی کی وجہ سے باغات یا شیڈوں میں جمع ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ (باردان ) دستیاب نہ ہونے کی صورت میں باغ مالکان یا بیوپاری حضرات اپنے میوہ جات کو بیرون ریاستوں کوبرآمد کرنے سے قاصر ہیں ۔اس ضمن میں باغ مالکان اور بیوپاریوں نے نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ خالی ڈبے ،پیٹی کی قیمت 100روپے ہے جس سے باغ مالکان اور بیوپاریوں کی کمرٹوٹ گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی برسوں سے مسلسل میوہ صنعت سے وابستہ افراد مالی مشکلات سے دوچار ہیں اور مالی بدحالی کے باعث وہ فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مسلسل میوہ جات میں قیمتوں کی کمی یا موسمی حالات کی وجہ سے یہ صنعت خسارے کی شکار ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب رواں سال میوہ جات کو درکار ضروری سامان کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف پہلے ہی سے میوہ صنعت سے وابستہ افراد اقتصادی بدحالی کے شکار ہیں اور دوسری اب ضروری سامان کی قیمتوں کی وجہ سے مزید پریشان ہورہے ہیں اور کہا کہ اس طرح کے معالات پیش آنے سے امسال بھی میوہ صنعت کو دچکا لگنے کا خطرہ لاحق ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں میوہ صنعت کو بچانے کے لئے فوری طور ٹھوس اور موثر اقدام اٹھائے جائیں اور پیٹیوں ،ڈبوں یعنی (باردان ) ودیگر ضروری سامان کی قیمتوں کو اعتدال پر لانے فور ی طور ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور سامان کو مہیا رکھنے کیلئے اقدام اٹھائے جائیں تاکہ میوہ صنعت سے وابستہ پریشانیوں کا ازالہ ہوسکے ۔










