سیاحتی مقام گلمرگ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی پہلی پسند

ہوٹلوں میں بہتر سہولیات نہ ہونے سے سیاح ہوتے ہیں پریشان

سرینگر///سیاحتی مقام گلمرگ جو کہ وادی کشمیر میں سیاحوں کیلئے سب سے پسندیدہ جگہ مانی جاتی ہے میں سیاحوں کو بہتر سہولیات دستیاب نہیں ہے کیوں کہ وہاں پر ہوٹلوں کے کمرے ، باتھ روم ، بیڈ روم خستہ حالی کے شکار ہوچکے ہیں ادھر گلمرگ میں ہوٹل کی تجدید و مرمت کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں سیاحوں کو بہتر سہولیات بہم رکھنے میں ہوٹل مالکان قاصر ہیں۔ وائس آف انڈیا کے نمائندے امان ملک کے مطابق وادی کشمیر میں سب سے خوبصورت جگہ گلمرگ مانی جاتی ہے جو موسم سرماء￿ میں سیاحوں کی پہلی پسند مانی جاتی ہے اور اس جگہ ہر سال لاکھوں سیاح پہنچ جاتے ہیں تاہم گلمرگ میں ہوٹلوں کی تجدیدو مرمت کا کام نہ ہونے سے ہوٹلوں کے کمرے ، باتھ روم وغیرہ خستہ ہوچکے ہیں۔ وادی کشمیر میں سیاحت سے قریب 35 لاکھ افراد بلواسطہ یا بلا واسطہ وابستہ ہے اور گلمرگ ایسا مقام ہے جو پوری دنیامیں مشہور ہے لیکن اس جگہ پر سیاحوں کو بہتر سہولیات بہم نہیں ہے۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ ہوٹلوں نے جو لیز پر اراضی لے رکھی تھی اس کی مدت بھی ختم ہوچکی ہے لیکن اس میں بھی توسیع نہیں کی جارہی ہے۔ اس ضمن میں ہوٹلرس ایسوسی ایشن کے سربراہ مشتاق احمد چایا نے نمائندہے کو بتایا کہ گلمرگ میں شیخ محمد عبداللہ کے دور اقتدار میں ہوٹل مالکان نے لیز پر 40 برس تک اراضی حاصل کی تھی اور 1978میں لی جانے والی اراضی کی مدت 2018میں ختم ہوگئی ہے اور اس سلسلے میں کئی بار متعلقہ حکام سے رجوع کیا گیا اور لیز میں توسیع کی اپیل کی گئی لیکن حکام نے ابھی تک اس ضمن میں کوئی بھی اقدام نہیں اْٹھایا جس کی وجہ سے ہوٹل مالکان پریشان ہوچکے ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ گلمرگ میں 90 فیصدی ہوٹل خستہ حالی کے شکار ہیں بیڈ روم خستہ ہوچکے ہیں۔ باتھ روم خستہ ہے ، ہوٹلوں ک چھت تباہ ہوچکی ہیں لیکن ہوٹلوں کی مرمت کیلئے اجازت نہیں دی جارہی ہے جس کے سبب یہ ہوٹل دن بدن بتر صورتحال کے شکار ہورہے ہیں۔ مشتاق احمد چایا نے بتایا کہ گلمرگ میں جو ہوٹل ہے ان ہوٹلوں میں سیاحوں کو بہتر سہولیات نہ ہونا یہی وجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکار کو چاہئے کہ وہ ا س ضمن میں اقدامات اْٹھائیں اور جن ہوٹلوں کی مرمت کی ضرورت ہے ان کو اجازت دی جانی چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں پر بے روزگاری پر قابو پانے میں سیاحتی شعبے کا اہم رول رہا ہے اور وادی کشمیر میں معیشت کے حوالے سے ٹورازم ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی ہے اس لئے اس جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔