ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیوں میںطویل المدتی ویژن ندارد، ماسٹر پلان کی تیاری سست
سرینگر// یو این ایس// جموں و کشمیر کے مختلف سیاحتی مقامات کی منظم اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ٹورازم ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے جامع ماسٹر پلان تیار کرنے کا حکومتی منصوبہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا ہے۔ کئی اعلیٰ سطحی اجلاسوں، سرکاری ہدایات اور اعلانات کے باوجود متعلقہ حکام اب تک اس اہم کام کے لیے کسی ایجنسی کا انتخاب نہیں کر پائے ہیں، جس کے باعث منصوبہ بندی کا پورا عمل تعطل کا شکار ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق اکتوبر 2024 میں ایک اعلیٰ سطحی فیصلے کے بعد محکمہ سیاحت نے ٹاؤن پلاننگ آرگنائزیشن کو باضابطہ مراسلہ ارسال کرتے ہوئے ہر ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے الگ الگ ماسٹر پلان تیار کرنے سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کی تھیں۔یو این ایس کے مطابق محکمہ سیاحت نے مشاورتی اداروں کی خدمات حاصل کرنے پر آنے والے اخراجات، منصوبہ مکمل کرنے کے ممکنہ وقت، طریقہ کار اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی دستاویزات کے بارے میں رہنمائی مانگی تھی۔ ٹاؤن پلاننگ آرگنائزیشن نے مطلوبہ تفصیلات محکمہ سیاحت کو فراہم کر دیں، تاہم اس کے بعد اس معاملے میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ 11 نومبر 2024 کو وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی زیر صدارت محکمہ سیاحت کے ایک جائزہ اجلاس میں بھی اس معاملے پر غور کیا گیا تھا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کو مضبوط بنانے اور سیاحتی مقامات کی منظم ترقی کے لیے فوری طور پر ماسٹر پلان تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔بعد ازاں 19 فروری 2025 کو چیف سیکریٹری اٹل ڈولو کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں بھی اس مسئلے کا جائزہ لیا گیا، جہاں انہوں نے سیاحت کے شعبے میں منظم ترقی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے لیے ماسٹر پلان تیار کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔اس کے باوجود ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبہ ابھی تک ابتدائی مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ نہ صرف کسی ایجنسی کو حتمی شکل نہیں دی گئی بلکہ محکمہ سیاحت اس بارے میں بھی فیصلہ نہیں کر سکا کہ تمام اتھارٹیز کے لیے ایک ہی ادارہ ماسٹر پلان تیار کرے گا یا مختلف علاقوں کے لیے الگ الگ ایجنسیاں مقرر کی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق عمل درآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے میں کافی وقت صرف ہوا۔ کئی ماہ تک اس بات پر بحث جاری رہی کہ آیا ٹاؤن پلاننگ آرگنائزیشن، جو محکمہ ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ کے تحت کام کرتی ہے، کو اس عمل میں شامل کیا جائے یا محکمہ سیاحت خود یہ ذمہ داری انجام دے۔یو این ایس کے مطابق اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ محکمہ سیاحت خود اس منصوبے کو آگے بڑھائے گا، تاہم انتظامی اور طریقہ کار سے متعلق معاملات طے کرنے میں قیمتی وقت ضائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ سیاحت اب بھی مختلف ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹیز سے ضروری معلومات اکٹھی کرنے کے عمل میں مصروف ہے، جن کے بغیر ماسٹر پلان کی تیاری کا باضابطہ آغاز ممکن نہیں۔ماہرین کے مطابق ماسٹر پلان کسی بھی سیاحتی مقام کی مستقبل کی ترقی کے لیے بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، زمین کے استعمال، ماحولیاتی تحفظ، سیاحوں کے انتظام، ٹریفک کنٹرول اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے واضح رہنما اصول وضع کیے جاتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر کے متعدد سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد کے پیش نظر ایسے منصوبوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ماسٹر پلان کے بغیر ترقیاتی سرگرمیاں غیر منظم انداز میں جاری رہتی ہیں جس سے نہ صرف بنیادی سہولیات متاثر ہوتی ہیں بلکہ ماحولیات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔حکام کا ماننا ہے کہ متعدد ٹورازم ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اس وقت کسی طویل المدتی وڑن کے بغیر کام کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں بے ہنگم تعمیرات، ماحولیاتی دباؤ اور سیاحوں کے لیے ناقص انتظامی نظام جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق ماسٹر پلان کے بغیر ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں کی نشاندہی، سیاحتی مقامات کی برداشت کی صلاحیت مستقبل کی بنیادی ڈھانچہ جاتی ضروریات اور زمین کے استعمال سے متعلق قواعد کا سائنسی انداز میں تعین ممکن نہیں، جس سے سیاحت کے شعبے کی پائیدار ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ کسی بھی ماسٹر پلان کا بنیادی مقصد آئندہ 20 سے 25 برسوں کے تناظر میں ترقیاتی حکمت عملی وضع کرنا اور موجودہ و مستقبل کی ضروریات کے مطابق کسی علاقے کی ترقی کو منظم اور مربوط انداز میں آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ اسی لیے ماہرین ہر اہم سیاحتی مقام کے لیے جامع ماسٹر پلان کی تیاری کو ناگزیر قرار دے رہے ہیں۔










