school opens in kashmir

سکولی تعلیم محکمہ کی ’’ آئو سکول چلیں ‘‘ مہم نے جموں وکشمیر کے سرکاری سکولوں میں اِندراج بہتر کیا ہے

سری نگر//جموں وکشمیر میں سکولی تعلیم محکمہ کی کوششوں کے نتائج سامنے آرہے ہیں کیوں کہ بچوں کو سکولوں میں لانے کے لئے ایک نئی اَنرولمنٹ مہم ’’ آئو سکول چلیں مہم ‘‘ قومی تعلیمی پالیسی کے تحت سال 2020-21ء کے مقابلے میںسال 2021-22ء میں اندراج میں 14.5 فیصد اِضافہ ہوا ہے۔جموںوکشمیر یوٹی کے مختلف سکولوں میںسکولی تعلیم محکمہ کی پہل ’ تلاش سروے‘ کے بعد 1,65,000 طلباء کا داخلہ کیا گیا ہے۔اِس اقدام سے 20 لاکھ بچوں کا سروے کیا گیا ہے اور اِن میں سے 93,508 طلباء سکولوں سے باہر پائے گئے ہیں یا ان کا داخلہ نہیں ہوا ہے ۔مناسب عمر کے سکول سے باہر بچوں کو مرکزی دھارے میں لانے کا آغاز کیا گیا ہے ۔حکومت تمام ہونہار طلباء کو ایک نظام کے ساتھ تعلیم فراہم کرنے کے لئے پُر عزم ہے۔پری پرائمری اور پرائمری کلاسوں میں طلباء کے اِندراج کے لئے کمزور طبقات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جس میں خانہ بدوش بچے ، دُور دراز علاقوں کے بچے ، لڑکیوں اور ایس سی اور ایس ٹی کمیونٹی کے بچے بھی شامل ہیں۔کشمیر کے تقریباً 100 بہترین اَساتذہ اور لیکچراروں کو اِس برس یوٹی سے باہر تربیت کے لئے بھیجا جارہا ہے جو ماسٹر ٹرینروں اور سرپرست اَساتذہ کے طورپرکام کریں گے اور نقشہ ساز بچوں کی علمی مہارت کو بہتر بنانے کے لئے کام کریں گے۔جموںوکشمیر یوٹی میں اَساتذہ کی استعداد کار میں اِضافے کے لئے ’سٹوڈنٹ اینڈ ٹیچر انگیج منٹ فار ایجوکیشنل رین فورسمنٹ ( ایس ٹی اِی اِی آر ) کے لئے ایک سٹوڈنٹ مینٹر شپ پروگرام شروع کیا گیا ہے جو تعلیمی اِداروں میں طلباء کی کارکردگی پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور سیکھنے کے طریقے کو بہتر اور مضبوط بناتاہے ۔اِس کے علاوہ منفرد پہل کے تحت ’ ماتری بھوجن یوجنا ‘ جموںوکشمیر یوٹی میں عملایا گیا ہے جہاں مائیں سکولوں کادورہ کر کے پکائے ہوئے کھانے کے معیار کو یقینی بنارہی ہیں۔محکمہ تعلیم نے جموں اور سانبہ اَضلاع میں کمیونٹی کچن کے لئے اَکشے پاترا کے ساتھ مفاہمت نامے پر بھی دستخط کئے ہیں جسے دوسرے اَضلاع میں اَپنایا جائے گا۔جموںوکشمیر میں 714 سرکاری سکولوں میں داخل ہونے والے تقریباً 70,000 طلباء کو 14 مختلف ٹریڈس میں پیشہ ورانہ تعلیم دی جارہی ہے ۔ روان مالی برس کے دوران 803ووکیشنل لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیںاور 1,122 لیبارٹریاں اور 1,352 سمارٹ کلاس روم قائم کئے جارہے ہیں ۔ اِس کے علاوہ 127 اَٹل ٹنکرنگ لیبارٹیاں ( اے ٹی ایل) اور 1,420 کمپیوٹر ایڈیڈ لرننگ ( سی اے ایل ) مراکز قائم کرنے کے لئے ایک اِنقلابی قدم اُٹھایا گیا ہے ۔اِس برس تقریباً 500 اِضافی اَٹل ٹنکرنگ لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی تاکہ عزم کو عملی شکل دی جاسکے۔جموںوکشمیر یوٹی میں بارہویں جماعت کے فارغ التحصیل کو ٹیکنیکل سکلز فراہم کرنے کے لئے ایچ سی ایل ٹیک بی کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے گئے ہیںجس میں قومی تعلیمی پالیسی کی سفارشات کے مطابق طلباء میں ہُنر کی تربیت ، سائنسی مزاج ، کاروباری اور اَخلاقی قیادت فراہم کی گئی ہے۔ہر سکول میں مختلف اِصلاحات سے تعلیم کے معیار کو یقینی بنایا جارہاہے اور کمیونٹی کی شراکت سے ہمہ گیر تعلیم کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جارہا ہے ۔ حکومت نہ صرف طلباء کے سکول جانے کو یقینی بنارہی ہے بلکہ ایک اَچھا سکول جس میں ہرقسم کی سہولیات موجود ہوں ۔ اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے جموںوکشمیر یوٹی کے تمام سکولوں میں معیاری تعلیم کو یقینی بنایا جارہاہے اور یہ حکومت کے اہم مقاصد میں سے ایک ہے جو دیگر اقدامات کے مؤثر عمل آوری کے لئے پُر عزم ہے۔حکومت طلباء کی علمی صلاحیتوں کی تعمیر ، تجرباتی اور قابلیت پر مبنی سیکھنے کا استعمال کرتے ہوئے بہتر سیکھنے کے ماحول پر بھی زور دیتی ہے ۔ ایک اور پہل ’’ ہر ایک سکھائیں ‘‘ مہم کے تحت پرائمری اور اَپر پرائمری کے طلباء اَپنے نوخواندہ کنبے کے اَفراد کو پڑھا رہے ہیں تاکہ وہ خواند بن سکیں ۔سماگراہ شکھشا کی طرف سے ایک ماڈیول اور مواد پہلے ہی تیار کیا جاچکا ہے اور مستحقین میں تقسیم کیا جاچکا ہے۔مختلف پالیسیوں اور اَقدامات سے تعلیمی شعبے پر جموںوکشمیر حکومت کے زور کی وجہ سے اعلیٰ ثانوی اور ثانوی سطح پر بالترتیب 7فیصد اور 1فیصد مجموعی اَنرولمنٹ ریشو ( جی اِی آر ) میں اِضافہ ہوا ہے۔مرکزی حکومت کے تازہ ترین یونیفائیڈ ڈسٹرکٹ اِنفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن پلس ( یو ڈی آئی ایس اِی پلس) سے حوصلہ اَفزاعدادو شمار سامنے آئے ہیں۔ جموںوکشمیر کا سال2018ء کے بعد سے مجموعی اَنرولمنٹ ریشو 2021ء میں اعلیٰ ثانوی سطح میں 7.7 فیصد اور گذشتہ تین برسوں میں ثانوی سطح میں 1.7 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ایک رِپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جموںوکشمیر کا 2018-19ء میں اعلیٰ ثانوی سطح میں جی اِی آر 42.4 فیصد تھا اور سال 2020-21ء میں یہ اعداد وشمار 50.1 فیصد تک پہنچ گئے ۔ اِسی طرح جموںوکشمیر میں ثانوی سطح کے لئے سال 2018-19ء کے 58.1 فیصد کے مقابلے میںسال 2020-21ء میں 59.8 فیصدریکارڈ کیا گیاہے۔جموںوکشمیر کاسال 2019-20ء میں جی اِی آر 38.4 فیصد ریکارڈ کیا گیا اور اِسی مدت میں ثانوی سطح میں جی اِی آر 58.7 فیصد رہا۔اِس سے قبل نیشنل اچیو منٹ سروے میں جموںوکشمیر 17ویں نمبر پر تھا اور سروے میں جموںوکشمیر چھٹے نمبر پر تھا ۔محکمہ تعلیم ایک ایکشن پلان پر کام کر رہا ہے جس سے اِس بات کو یقینی بنائے گا کہ اَگلے دو برسوں میں سکولوں میں طلباء کے اِندراج میں اِضافہ ہو اور کوئی طالب علم سکول نہ چھوڑے۔لیفٹیننٹ گورنر نے حال ہی میں کہا کہ حکومت کے زیر اِنتظام سکولوں میں طلباء کے داخلے میں گذشتہ دو برسوں میں زائد اَز 14فیصد اِضافہ ہوا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے مزید کہا ،’’ اگر آپ 2019ء سے تین برس پہلے دیکھیں گے تو سکولوں میں داخلہ کم ہو رہا تھا ۔ تاہم گذشتہ دوبرسوں میں سرکاری سکولوں میں داخلے میں 14.2فیصد اِضافہ ہوا ہے ۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ ایک طویل عرصے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں کے تحت مرکزی حکومت نے نئی تعلیمی پالیسی نافذ کی ہے اور اِس سکیم کے تحت طالب علموں کو بہتر اور معیاری تعلیم کے لئے تیار کرنے کی خاطر ابتدائی بچپن کی پرداخت اور تعلیم کا آغاز کیا گیا ہے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا ،’’ کووِڈ۔19 کے دو برسوں کے باوجود جموں وکشمیر کے سکولی تعلیم محکمہ نے زبردست کام کیا ہے اور 1.24 لاکھ لڑکوں اور لڑکیوں کو ابتدائی بچپن کی دیکھ ریکھ اور تعلیم کے لئے اِندراج کیا گیا ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ 2,000 کنڈر گارٹن بھی قائم کئے گئے ہیں اور 12,000 اَساتذہ کو تربیت دی گئی ہے اور زائد اَز پانچ لاکھ طلباء کو سیکھنے کا نیا مواد دیا گیا ہے ۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جموںوکشمیر میں 1,588 کمپیوٹر لیب اور 1,420 ووکیشنل ٹریننگ لیبارٹریاں بھی قائم کی گئی ہیں اور گذشتہ دو برسوں میں 28 رہائشی لڑکیوں کے ہوسٹل بھی قائم کئے گئے ہیں۔