سرینگر//کمشنر سیکرٹری جنگلات ، ماحولیات سنجیو ورما نے جے اینڈ کے فاریسٹ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ ( ایف ڈی سی ایل ) کی دوسری بورڈ میٹنگ کی صدارت کی ۔ ورما جو کہ جے اینڈ کے ایف ڈی سی ایل کے چئیر پرسن بھی ہیں ، نے کاروبار کے انعقاد میں شفافیت اور کارکردگی کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے زور دیا کہ کارپوریشن میں پے اینڈ اکاؤنٹس آفس ( پی اینڈ اے او ) کا نظام اس سمت میں ایک اہم قدم ہے ۔ انہوں نے کارپوریشن سے کہا کہ وہ اپنا کاروبار عام لوگوں کے اطمینان کے مطابق کریں ۔انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ لکڑی کی فروخت اور تقسیم کو اس قابل بنائیں کہ وہ اس کے مستحق لوگوں تک پہنچ سکے ۔ بورڈ نے اس سال 26 فروری کو منعقد ہونے والی پہلی بورڈ میٹنگ میں کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائیزہ لیا ۔ کارپوریشن کے ایم ڈی نے بورڈ کو آگاہ کیا کہ یکم اپریل 2021 سے اس کے کام کرنے کے بعد سے جولائی 2021 تک سامان اور خدمات کی فروخت سے کارپوریشن کی مجموعی رسیدیں 60 کروڑ روپے تک جمع ہوئی ہیں ۔ بورڈ نے سابقہ جے اینڈ کے اسٹیٹ فاریسٹ کارپوریشن کی 2014-15 سے 2019-20 کی مدت کیلئے آڈٹ رپورٹس کا نوٹ لیا ۔ بورڈ کے ڈائریکٹرز جنہوں نے میٹنگ میں شرکت کی ان میں پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ ڈاکٹر موہت گیرا ،سیکرٹری قبائلی امور شاہد اقبال چودھری ، منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے ایف ڈی سی ایل واسو یادو ،ڈائریکٹر جنرل کوڈز کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل بجٹ محکمہ دیہی ترقی کے نمائندے اور صنعت و تجارت کے شعبے نے بھی بورڈ کے اجلاس میں شرکت کی ۔ جے اینڈ کے ایف ڈی سی ایل کو 3 دسمبر 2020 کو کمپنیزایکٹ 2013 کے تحت شامل کیا گیا تھا اور اس نے جے اینڈ کے اسٹیٹ فاریسٹ کارپوریشن ایکٹ 1978 کی منسوخی کے نتیجے میں سابقہ جموں و کشمیر اسٹیٹ فاریسٹ کارپوریشن کے اثاثے اور ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں ۔ بورڈ آف جے اینڈ کے ایف ڈی سی ایل کا ڈھانچہ محکمہ خزانہ ، صنعت اور تجارت کے شعبہ ، جنگلات ، ماحولیات ، دیہی ترقیاتی محکمہ ، قبائلی امور کا محکمہ ، پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ اور کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر پر مشتمل ہے ۔










