جموں//کمشنرسیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ سنجیو ورما نے قومی اتحاد ہفتہ اور راشٹریہ ایکتا دیوس2023ء کی تقریبات کے سلسلے میںآج ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میںتقریبات کے اِنتظامات کا جائزہ لیا گیا ۔میٹنگ میں کشمیر اور جموں کے صوبائی کمشنروں ، اے ڈی جی پی کشمیر، سیکرٹری ثقافت ، سیکرٹری اَمورنوجوان و کھیل کود محکمہ نے شرکت کی۔میٹنگ کے آغاز میں مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ پروگرام کے وسیع تناظر میں تقریبات کے اِنعقاد کی تفصیلات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ صوبائی کمشنران اور ضلع ترقیاتی کمشنران ،پولیس ، امور نوجوان و کھیل کود اور ثقافت محکموں کے قریبی تعاون سے ’’ میری مٹی ، میرا دیش‘‘ مہم، قومی اتحاد ہفتہ اور یوٹی، صوبائی ، ضلع ، بلاک اور پنچایت سطح پر یوٹی یوم تاسیس کی مناسب تقریبات کو یقینی بنائیں گے۔ جموںوکشمیر پولیس اور یونٹی رنس کے ذریعے تمام اضلاع میں مارچ پاسٹ کے اِنعقاد کی ہدایات جاری کی گئیں اور جموںوکشمیر یوٹی کے جیلوں اور حراستی مراکز میں قومی یکجہتی پر جشن کے پروگراموں کو یقینی بنانے کے لئے ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ صوبائی کمشنروں اور ضلع ترقیاتی کمشنروں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ہفتہ بھر کی تقریبات کے دوران مختصر اور لمبی واک، یوگا مقابلے، صفائی مہم، مباحثے، مصوری مقابلے وغیرہ جیسی متعدد سرگرمیوں کو شامل کریں۔میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ پی آر آئیز کے ساتھ ساتھ نوجوانوں اور بزرگ شہریوں سمیت معاشرے کے تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے اَفراد کی شرکت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ جوش و خروش کے ساتھ تقریبات کو منانے کے لئے ہم آہنگی پیدا کی جاسکے۔صوبائی کمشنروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ مسلسل بنیادوں پر تقریبات کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔
ای سی ائی نے جانچ کے بعد ٹی این، مغربی بنگال میں دوبارہ پولنگ کو مسترد کر دیا
سیتارامن نے اے آئی سے جڑے سائبر خطرات کا جائزہ لیا
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو قانونی ثابت کرنا امریکہ کیلئے مشکل
امریکہ کی چینی آئل ریفائنری پر ایرانی تیل خریدنے پر پابندی
ایران میں 4 موساد جاسوسوں سمیت 240 افراد گرفتار
امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی کی صلاحیت نہیں رکھتا: غلام حسین
ایران کا ایک ہزار سے زائد اقسام کے ہتھیار سازی کا دعویٰ
جنگی کوششوں کے باوجود محتاط اور مثبت موقف :ایردوان
ایران اور امریکہ کے مابین دوسرے دور کی بات چیت پھر شروع نہ ہوسکی
مدھیہ پردیش پولیس نے حراست میں لیے گئے 163 مدرسے کے طلباء کو 10 دن بعد رہا کر دیا










