سماجی برائیوں میں روز افزوں اضافہ اور منشیات کا بڑھتا رجحان باعث تشویش

سماجی برائیوں میں روز افزوں اضافہ اور منشیات کا بڑھتا رجحان باعث تشویش

سرینگر / /عالمی سطح پر مختلف ممالک میں اگر چہ بہت پہلے سماجی بے راہ روی اور برائیاں پنپ رہی تھی تاہم کئی ممالک ایسے تھے جن کا مذہبی اعتبار کے استحکام سے تہذیب وتمدن میں ایک معیاربرقرار تھا لیکن زمانے کی تیزرفتاری نے بیشتر ممالک میں منشیات کا رجحان بڑھ رہا ہے جبکہ سماجی برائیوں میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے ۔جس سے ہر سو تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے اور حساس لوگ اس حوالے سے فکر مند ہیں ۔لیکن اب اس سے نجات حاصل کرنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی ہے ۔کیونکہ حالات اس حد تک بگڑ گئے ہیں کہ لوگ آئے روز منشیات کی لت میں مبتلا ہورہے ہیں جبکہ سماجی برائیاں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں ۔جموں وکشمیر بالخصوص وادی کشمیر جو پیرواری کے نام سے موسوم تھی لیکن اب یہاں کے نوجوان بڑی تیزی سے منشیات کی لت میں مبتلا ہورہے ہیں جبکہ سماجی برائیاں اس حد تک بڑھ رہی ہیں کہ شرم دار اور باحیاء لوگوں کا جینا محال بن گیا ہے کیونکہ شرم دار اور باحیاء افراد عزت کی شمع فروزان کرنے کیلئے ہمیشہ فکرہوتے ہیں لیکن جب سیلاب اُمڈ آتا ہے تو اس کو روکنے کیلئے وہ اسباب مہیا نہیں ہوتے ہیںجس کے نتیجے میں آئے روز اس میں اضافہ ہی ہورہا ہے ۔اس مشکل گھڑی میں مذہبی اور اخلاقی تعلیمات ہر فرد بشر کیلئے لازمی ہیں اور ان تعلیمات عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔اس سلسلے میں کشمیر پریس سروس کو آئے روز ایسے مختلف لوگوں کی جانب سے شکایات موصول ہورہے ہیں جن کا ضمیر منشیات کے بڑھتے رجحان اور سماجی برائیوں سے جھنجوڑ تا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہرطرف نوجوان نسل منشیات کی لت میں پائے جاتے ہیں اور ناسور کی طرح پھیل رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ منشیات کے عادی نوجوان ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں اور اگر کوئی کسی کام کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے لیکن اس کا ذہن ہمیشہ نشہ آور ادویات اور اشیاء کو حاصل کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں جہاں ایک دہائی قبل ہی نوجوان لڑکے لڑکیاں بزرگوں یا اپنے بڑوں کو دیکھ کر ان کی نظروں سے دور ہونے کی کوشش کرتے تھے لیکن اب نوجوانوں کی اکثریت اس حد تک بے رخ ہوئی ہے کہ ان کو کسی کی پرواہ نہیں رہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان کے ان حرکات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حالات دن بہ دن بگڑ تے رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ڈرگ مافیا بنا ہوا ہے اور سرغنوں کو سرکار اور پولیس کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے اور اسی طرح سے بے حیائی آئے روز فروغ پارہی ہے لیکن ان غیر اخلاقی وغیر قانونی حرکت انجام دینے والوں کے خلاف کوئی ایسی کاروائی نہیں کی جاتی ہے جس سے منشیات اور سماجی برائیوں کا انسداد ممکن ہوسکے ۔اس سلسلے میں انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سطح پر والدین ،اساتذہ ،ائمہ ،مبلغین ،گیانی اور دیگر مذہب دار و مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے افراد انفرادی اور اجتماعی طور منشیات اور سماجی برائیوں کے انسداد کیلئے موثر طریقہ کار اپنائے اور سرکار بغیرکسی سمجھوتہ کے اس طرح کے حالات کو روکنے کیلئے فاسٹ ٹریک بنیادوں پر ٹھو س اور موثر اقدام اٹھائیں تاکہ ہمارا معاشرہ بُرباد ہونے سے بچ جائے ۔