ہفتہ کوسابق بیورئوکریٹ اورسپریم کورٹ کی نامورخاتون وکیل کے گھروںکی باہری دیواریں مہندم
سری نگر//جموں وکشمیرمیں گزشتہ ماہ سے جاری انسداد تجاوزات مہم کے دوران ابتک مرکزی زیر انتظام علاقے کے سبھی10اضلاع بشمول سری نگراور جموںمیں تقریباً7لاکھ کنال سے زیادہ ریاستی اورکاہچرائی اراضی کوواگزار کیاگیاہے ۔اس دوران ہفتہ کے روز محکمہ مال اور دیگر محکموںکی مشترکہ ٹیموںنے پولیس کی نگرانی میں سری نگراور ہمہامہ بڈگام سمیت کئی اضلاع میں مزید درجنوں کنال سرکاری اراضی کوناجائز تجاوزات سے نجات دلانے کیلئے وہاں مختلف قسم کے ڈھانچوںکومسمار کردیا،جس دوران پادشاہی باغ اور مہجور نگر میں اس مہم کی زدمیں آنے والے لوگوں نے احتجاج بھی کیا۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق9جنوری2023کوجموں وکشمیر انتظامیہ کی جانب سے مرکزی زیرانتظام علاقے کے سبھی20اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں سے کہاتھاکہ وہ اسبات کو یقینی بنائیں کہ ریاستی اراضی بشمو ل کاہچرائی زمین اوروشنی ایکٹ کے تحت دی گئی زمینوں سے تمام تجاوزات کو31جنوری تک ہٹا دی جائیں۔حکام نے بتایاکہ یکم فروری2023تک جموں و کشمیر کے 8 اضلاع میں جاری انسداد تجاوزات مہم کے دوران تقریباً 6لاکھ56ہزار309 ہیکٹر’ریاستی اورکاہچرائی ‘ اراضی واگزار کرائی گئی ۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ ماہ شروع کی گئی انسداد تجاوزات مہم کے دوران یکم فروری2023تک ضلع راجوری میں 2,75,867 ہیکٹر اراضی کا بڑا حصہ بازیافت کیا گیا، اس کے بعد ضلع ریاسی میں 1,44,613 ہیکٹر، ضلع پونچھ میں 1,22,277، کشتواڑ ضلع میں 47,552 ہیکٹر، ضلع کٹھوعہ میں 15,000کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں 33,000 کنال اور ضلع گاندربل میں 14,000 کنال اور 4,000 میں کپواڑہ کے اضلاع بازیاب کی گئی ہے ۔حکام کے مطابق اسکے علاوہ ضلع اننت ناگ ،کولگام ،پلوامہ ،شوپیان اور بارہمولہ کے ساتھ ساتھ صوبہ جموںکے دیگر اضلاع میں بھی ہزاروں کنال یاہیکٹیر سرکاری وکاہچرائی اراضی سے ناجائز تجاوزات کوہٹایاگیاہے ۔حکام نے مزید بتایاکہ ابتک اس مہم کی زومیں کئی سابق وزراء،سابق ارکان قانون سازیہ ،سابق سیول وپولیس افسران اور دیگر بااثر لوگ بھی شامل ہیں ۔حکام نے بتایاکہ گزشتہ رواںماہ کی پہلی تاریخ کو جموں انتظامیہ نے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر کویندر گپتا کی مبینہ طور پر 23 کنال اراضی واپس حاصل کی۔اس دوران ڈپٹی کمشنر کولگام ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ نے کہاکہ ضلع کولگام میں بااثر افراد سے 1500 کنال قبضہ شدہ اراضی واگزار کرائی گئی۔انہوںنے کہاکہ اس مہم کے دوران کسی بھی بے زمین فردیاخاندان کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ڈی سی کولگام نے واضح کیاکہ غریب اوربے زمین خاندانوں کے مکانات مسمار کرنے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔قابل ذکر ہے کہ اسے پہلے سابق وزیر علی محمدساگر کی اہلیہ ،سابق وزیر پیرزادہ محمدسعید ،سابق وزیر سید فاروق اندرابی ،اور دیگر کچھ سیاستدانوںکے علاوہ کچھ ایک سابق بیورئو کریٹ بھی اس مہم کی لپیٹ میں آچکے ہیں جبکہ رواں ہفتہ ہی جنوبی ضلع اننت ناگ میں قاضی یاسر کی جانب سے سرکاری اراضی پر بنایاگیاایک ڈھانچہ مہندم کیاگیااور اسکے ساتھ ہی گزشتہ منگل کو سری نگر کے ایک ہوٹل مالک کی زیر تحویل40 کنال سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی جو سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کے قریبی رشتہ داروں کی بتائی جاتی ہے۔ اس دوران ہفتہ کے روز محکمہ مال اور دیگر محکموںکی مشترکہ ٹیموںنے پولیس کی نگرانی میں سری نگر سمیت کئی اضلاع میں مزید درجنوں کنال سرکاری اراضی کوناجائز تجاوزات سے نجات دلانے کیلئے وہاں مختلف قسم کے ڈھانچوںکومسمار کردیا،جس دوران پادشاہی باغ اور مہجور نگر میں اس مہم کی زدمیں آنے والے لوگوں نے احتجاج بھی کیا۔ذرائع نے بتایاکہ شہر کے مہجور نگراورپادشاہی باغ علاقہ میں سرکاری وکاہچرائی اراضی پر بنائے گئے ٹین کے شیڈ وں اور دیگر ڈھانچوںکوبھی ہٹایاگیا،جس دوران یہاں کچھ لوگوںنے کارروائی میں رکائوٹ ڈالنے کی کوشش کی ۔ادھر حکام نے ہفتے کے روز سری نگر ہوائی اڈے کے قریب ایک سابق بیوروکریٹ کے گھر کی بیرونی دیوار کو منہدم کر دیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ محکمہ محصولات کی ایک ٹیم نے تقریباً 10 مرلے کی سرکاری اراضی کو تجاوزات سے واپس لینے کے لیے مسماری مہم کی قیادت کی۔انہوں نے کہا کہ سابق بیوروکریٹ فاروق رینزو شاہ کی رہائش گاہ واقع ایئر پورٹ کے قریب فرینڈز انکلیو کے مرکزی گیٹ کی دیوارکو مسماری مہم کے ایک حصے کے طور پر گرا دیا گیا۔حکام نے بتایا کہ سابق ڈی سی بڈگام اور سابق ڈائریکٹر انفارمیشن فاروق رینزو شاہ کا ہمہامہ گھر مبینہ طور پر ان کی اہلیہ کے نام پر تھا۔ادھرکرالہ سنگری نشاط سری نگرمیں سپریم کورٹ کی نامور خاتون وکیل شبنم لون کے گھر کی باہری دیوار کوبھی گرایاگیا۔اس دوران ذرائع نے بتایاکہ اننت ناگ کی ضلعی انتظامیہ نے ریاستی وکاہچرائی ی زمینوں سے چلنے والے مختلف سٹون کرشروں کے خلاف بڑے پیمانے پر انسداد تجاوزات کی کارروائیاں کیں۔انہوںنے بتایاکہ سری نگرجموںقومی شاہراہ کے نزدیک 50کنال زمین بازیاب کی گئی ،جسکی قیمت 20 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ کرشرز کو مشینری کو موقع سے ہٹانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا ہے جس میں ناکامی پر مشینری کو بھی قبضے میں لے لیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایاکہ بمتھن میربازار میں بھی مسمار کرنے کی مہم چلائی گئی جہاں ایک اور سٹون کرشر سرکاری زمین پر کام کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ تحصیل قاضی گنڈ سے ریونیو ٹیم نے کل 14 کنال اراضی واگزار کرائی۔سرکاری ذرائع نے بتایاکہ بقیہ سرکاری وکاہچرائی ا راضی کو واگزار کرانے کیلئے انسداد تجاوزات مہم ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود جاری رہے گی۔










