100 نئی اسمارٹ بسیں نومبر تک سڑکوں پر لانے کا اعلان، شہریوں کو ریلیف کی امید
سرینگر// یو این ایس// سرینگر شہر میں بڑھتی ہوئی ٹریفک جام کی صورتحال کے حوالے سے انتظامیہ اور ماہرین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بنیادی مسئلہ مؤثر اور آرام دہ پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی ہے، جس کے باعث شہری بڑی تعداد میں نجی گاڑیوں کا استعمال کر رہے ہیں اور سڑکوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق حکام کے مطابق شہر میں اگرچہ اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت انٹیلیجنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کو تقریباً تمام اہم مقامات پر فعال کیا گیا ہے، تاہم ٹریفک کی زیادتی کے دوران نظام کو بعض اوقات دستی کنٹرول پر منتقل کرنا پڑتا ہے تاکہ بہاؤ کو برقرار رکھا جا سکے۔سرینگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فضل احسیب نے کہا ہے کہ شہر میں ٹریفک دباؤ کو کم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق اگر شہریوں کو آرام دہ، سستا اور مؤثر سفری نظام دستیاب ہو تو نجی گاڑیوں کا استعمال کم ہوگا، جس سے ٹریفک میں واضح کمی آئے گی۔نہوں نے بتایا کہ اس وقت اسمارٹ بسوں کا موجودہ بیڑا خدمات انجام دے رہا ہے، جبکہ مزید 100 نئی اسمارٹ بسیں اکتوبر اور نومبر کے دوران شہر میں شامل کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے شہریوں کو نمایاں ریلیف ملے گا اور ٹریفک کے دباؤ میں کمی آئے گی۔انتظامی ذرائع کے مطابق شہر میں ٹریفک جام کی ایک بڑی وجہ غیر منظم شہری ڈھانچہ، سڑکوں پر تجاوزات اور مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی بھی ہے۔ ایک افسر نے بتایا کہ بعض علاقوں میں ریڑھی بان اور سڑک کنارے کاروبار بھی ٹریفک کے بہاؤ کو متاثر کرتے ہیں، تاہم انہیں مکمل طور پر ہٹانا معاشی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ٹریفک پولیس کے مطابق شہر میں ٹریفک کی نگرانی جدید ’آئی ٹی ایم ایس‘ سسٹم اور دستی دونوں طریقوں سے کی جا رہی ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ٹریفک سرینگر اعجاز احمدنے کہا کہ سسٹم مکمل طور پر فعال ہے اور ٹریفک کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔تاہم شہریوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں خاص طور پر اوقاتِ کار کے دوران ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، جس کی بنیادی وجہ پبلک ٹرانسپورٹ کی ناکافی سہولیات اور بڑھتی ہوئی نجی گاڑیوں کی تعداد ہے۔ماہرین کے مطابق اگر نئی مجوزہ بس سروس بروقت شروع ہو گئی اور روٹس کو مؤثر انداز میں ترتیب دیا گیا تو سرینگر میں ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے، تاہم اس کے ساتھ شہری منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر میں بہتری بھی ناگزیر ہے۔










