وادی میں موسلادھار بارش، کئی علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال

وادی میں موسلادھار بارش، کئی علاقوں میں اچانک سیلابی صورتحال

محکمہ موسمیات نے 4 اگست تک مزید بارشوں اور گرج چمک کی پیش گوئی کی

سرینگر/وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں جمعہ کو موسلادھار بارش کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے، جبکہ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ اور بارہمولہ اضلاع میں اچانک سیلابی صورتحال (فلیش فلڈ) پیدا ہوگئی۔ حکام کے مطابق اگرچہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم کئی علاقوں میں سڑکیں اور سرکاری املاک متاثر ہوئیں۔یو این ایس کے مطابق سرکاری حکام نے بتایا کہ گزشتہ شب شروع ہونے والی بارش جمعہ کی صبح تک وقفے وقفے سے جاری رہی۔ بڈگام، بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں کئی ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہوگئی۔بانڈی پورہ کے صدرکوٹ بالا علاقے میں شدید بارش کے بعد آنے والے فلیش فلڈ سے سڑکیں زیر آب آگئیں جبکہ مالپورہ کے گنی محلہ میں واقع گورنمنٹ پرائمری اسکول میں کیچڑ اور ملبہ داخل ہوگیا۔ کلاس رومز میں پانی اور مٹی بھر جانے سے فرش اور تدریسی سامان کو نقصان پہنچا، جس کے پیش نظر احتیاطی طور پر اسکول کو ایک دن کے لیے بند کر دیا گیا۔ادھر ضلع بارہمولہ کے سوپور کے برینر علاقے میں بھی اچانک سیلابی ریلے آئے، تاہم حکام کے مطابق وہاں کسی رہائشی مکان یا دیگر املاک کو نقصان نہیں پہنچا۔انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور متعلقہ محکموں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ متاثرہ مقامات پر نقصان کا جائزہ لینے کا عمل بھی جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش متوقع ہے، جبکہ مختلف مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش اور چند مقامات پر مختصر دورانیے کی شدید بارش کا بھی امکان ہے۔ محکمہ کے مطابق 4 اگست تک وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، جس کے پیش نظر نشیبی علاقوں، ندی نالوں کے کناروں اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق اس دوران ضلع رامبن کے رامسو علاقے میں جمعہ کو ایک تازہ لینڈ سلائیڈ پیش آئی جس کے باعث جموں-سری نگر قومی شاہراہ کے ساتھ بہنے والے بسلیری نالہ کے بہاؤ پر جزوی اثر پڑا ہے۔ تاہم انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صورتحال تشویشناک نہیں اور فی الحال مقامی آبادی کے انخلا کی ضرورت نہیں ہے۔سب ڈویڑنل مجسٹریٹ رامسو، مظہر حسین شاہ نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈ اسی مقام کے قریب ہوئی ہے جہاں گزشتہ برس بڑے پیمانے پر زمین کھسکنے سے بسلیری نالہ بند ہوگیا تھا۔ اس وقت احتیاطی اقدام کے طور پر قریبی آبادی کو تقریباً 15 سے 20 دن تک ایک سرکاری اسکول میں منتقل کیا گیا تھا، جہاں خوراک، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بھی مون سون کے دوران لینڈ سلائیڈ پیش آئی ہے، تاہم نالے کا بہاؤ صرف جزوی طور پر متاثر ہوا ہے اور رکاوٹ اس حد تک نہیں کہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔دریں اثنا، حکام نے بتایا کہ حالیہ سیلاب اور شدید بارشوں کے باعث متاثر ہونے والی پونچھ ضلع کی 132 کے وی بجلی گرڈ سپلائی مسلسل دس روز بعد مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ 19 جولائی کو آنے والے فلیش فلڈ اور موسلادھار بارشوں سے راجوری اور تھنہ منڈی کے درمیان بجلی کے دو سے تین ٹرانسمیشن ٹاور بہہ گئے تھے، جس کے نتیجے میں پورے پونچھ ضلع کی بجلی سپلائی متاثر ہوئی تھی۔محکمہ بجلی (پی ڈی ڈی) کے انچارج ایگزیکٹو انجینئر الطاف احمد خان نے بتایا کہ محکمے کے اہلکاروں نے شبانہ روز محنت کرکے ہنگامی بنیادوں پر مرمتی کام انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے عارضی طور پر بجلی فراہم کی جا رہی تھی، تاہم اب ایمرجنسی ریسٹوریشن سسٹم کے ذریعے منہدم ٹرانسمیشن ٹاورز کو بحال کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ضلع کو اس کا مکمل بجلی کوٹہ دوبارہ فراہم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 19 جولائی کو ہونے والی شدید بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات سے تھنہ منڈی-ڈی کے جی-بفلیاز شاہراہ کو بھی شدید نقصان پہنچا، جو سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ کو وادی کشمیر سے جوڑنے والا ایک اہم بارڈر روڈز آرگنائزیشن منصوبہ ہے۔ سیلابی ریلوں نے سڑک کے کئی حصے، پلچے اور متعدد درخت بہا دیے، جس سے آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔