لوگوں تک پانی پہنچنے سے پہلے کئی مراحل سے گزار کر کئی ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں
سرینگر//وادی کشمیر کو اللہ تعلیٰ نے پانی کے ذخیرے سے نوازا ہے جو کہ شائد ہی پورے ملک میں اور کسی جگہ دستیاب ہو ۔ تاہم ہم اپنی اس نعمت عظمیٰ کی قدر نہیں کرتے اور پانی کے ذخائر کی تباہی کے ذمہ دار ہم خود ہی ہیں ۔ ہم بلا سوچے سمجھے ندی نالوں، دریائوں میں کوڑا کرکٹ اور گندگی ڈلا دیتے ہیں اور اس کا حساس کئے بغیر کہ ان ہی ندی نالوں اور دریائوں کا پنی ہمیں فلٹر کے بعد فراہم کیا جاتا ہے ۔ ہم تک صاف اور پینے کے لئے پانی پہنچانے کیلئے کتنے وسائل اور کتنی افرادی قوت کام آتی ہے ہم اس سے بے خبر ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ جو پانی ہمیں نل کے ذریعے فراہم ہوتا ہے وہ وہاں موٹر لگانے بعد سیدھے ہم تک پہنچ پاتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ اس میں کئی مراحل ہوتے ہیں کئی طرح کے ٹسٹ اور جانچ کے بعد ہی ہم تک یہ پانی پہنچتا ہے۔ صارفین اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ان کے علاقوں میںایک تو پانی کی قلت رہتی ہے دوسرا پانی ناصاف ہوتا ہے ۔ اس ضمن میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کی جانب سے صحافیوں کو عملی طور پر دکھایا گیا کہ اصل وجوہات کیا ہیں اور کس طرح سے شہریوں کو پانی فراہم کیاجاتا ہے ۔ سب سے پہلے ٹنگنار جو شہر سرینگر کے ساتھ ساتھ متعدد دیہی علاقوں کو پانی فراہم کرتا ہے ۔ٹنگنار فلٹریشن پلانٹ! ٹنگنار فلٹریشن پلانٹ پنتھہ چوک کے قریب واقع ہے یہ پلانٹ 2.4x4MGDکی صلاحیت رکھتا ہے جس کے 6بیڈ ہیں ۔ اور یہ 24گھنٹوں میں 10گھنٹے پانی فراہم کرتا ہے صبح اور شام کے اقوات میں صارفین کو اس پلانٹ سے روزنانہ قریب 10گلین پانی فراہم ہوتا ہے۔ٹنگنار فلٹریشن پلانٹ کو پانی دریائے جہلم سے حاصل ہوتا ہے ۔ اس ضمن میں ٹنگنار فلٹریشن پلانٹ میں تعینات جے ای باسط احمد نے بتایا کہ دیگر پلانٹوں کے نسبت یہاںکے پانی کا معیار بہت بہتر ہے کیوں کہ دریائے جہلم کے پانی میں روانی ہے اور بند پانی نہیں ہے جس کے نتیجے میں اس کا معیار بہتر رہتا ہے ۔ ٹنگنار فلٹریشن پلانٹ سے متعلق پی ایچ ای کے ایگزن پیرزادہ شائق نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دریائے جہلم کے کناروں پر درجنوں کوڑا کرکٹ کے ڈمپنگ سائٹس موجود ہیں جبکہ لوگ اسی دریاء میں اپنے گھروں سے نکلنے والا کوڑا کرکٹ ڈال دیتے ہیں ، مردہ جانوروں کو بھی اسی دریاء میں ڈالا جاتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں اس کا پانی آلودہ ہوجاتا ہے اور مضر صحت بنتا ہے تاہم اس فلٹریشن پلانٹ سے جو پانی صارفین کو سپلائی کیا جاتا ہے اس کی پہلے ہر طرح سے جانچ کی جاتی ہے اور پانی کی صحت کی بحالی کیلئے کئی طرح کے مراحل سے گزارا جاتا ہے ۔ ٹنگہ نار فلٹریشن پلانٹ میں قائم لیبارٹری میں درائے جہلم سے حاصل کردہ پانی کی پہلے جانچ کی جاتی ہے۔پانی کو 13طرح کے الگ الگ ٹیسٹ کئے جاتے ہیں ، پانی کے رنگ کی جانچ کی جاتی ہے ۔ اس میں نائٹ ریٹ اور بلیچنگ پاوڈر ملایا جاتا ہے ۔ اس میں موجود جراثیم ، گندگی اور اس کی آلودگی جانچنے کے بعد اس کو کئی طرح سے فلٹر کیا جاتا ہے جس کے بعد اس میں کئی طرح کے کمیکل بشمول بلیچنگ پاوڈر ملائی جاتی ہے اور پھر دوبارہ لیبارٹری میں نمونے کی جانچ کی جاتی ہے اور جب یہ پینے کے قابل تیار ہوتا ہے اور نمونے بہتر حاصل ہوتے ہیں تو پھر اس کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ ایگزن موصوف نے بتایا کہ یہاں سے جو پانی ہم سپلائی کرتے ہیں اس کو اُبالنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ اس کی صحت اور میعار کو پہلے ہی جانچا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہمارا کام ہی یہ ہے کہ ہم لوگوں کو بہتر اور صاف و شفاف پانی فراہم کریں ۔ بارش سے پانی کی آلودگی بڑھتی ہے کیوں کہ بارش کا پانی جو سڑکوں ، گلی کوچوں سے دریاء میں گرتا ہے اس میں آلودگی فضلہ اور کوڑا کرکٹ بھی ہوتا ہے اس سے پانی مزید آلودہ ہوتا ہے اور ہم پانی کے دنوں اس طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔










