سرینگر بارہمولہ ریل لنک کو اپریل 2023تک ملک کے دیگر حصوں سے جوڑ دیا جائے گا

قطب مینار سے زیادہ اونچائی کے ٹریک پر ٹرین کا چلنا کسی معجزے سے کم نہیںہوگا جنرل منیجر شمالی ریلوئے

سرینگر / /سرینگر بارہمولہ ریل لنک کو اپریل 2023تک ملک کے دیگر حصوں سے جوڑ دیا جائے گا کا دعویٰ کرتے ہوئے شمالی ریلوئے کا کہنا ہے کہ ریل خدمات کو ملک کے دیگر علاقوں سے جوڑنے کیلئے ہنگامی نوعیت پر کام جاری ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ادھم پور، سرینگر اوربارہمولہ ریلوے لنک پروجیکٹ پر کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ریلوے نے اس کی تکمیل کی آخری تاریخ اپریل 2023مقرر کر دی ہے ۔ شمالی ریلوئے کے جنرل مینیجر آشوتوش گنگال نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ریل لنک کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنے کیلئے کام بڑے پیمانے پر جاری ہے اور 272 کلومیٹر کے باقی 111 کلومیٹر پر کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ میگا پراجیکٹ کے تحت قطب مینار سے زیادہ اونچائی پر پلیٹ فارم اور ٹریک بنائے جائیں گے اور اتنی بلندی پر ٹرین کا چلنا کسی معجزے سے کم نہیں۔انہوںنے مزید کہا کہ 111 کلومیٹر کے اس حصے میں سے 58 کلومیٹر ایک سرنگ سے گزرے گا۔جو کہ دنیا کی ریل لنک میںسب سے بڑی ٹنل ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں اور کشمیر کے ریاسی ضلع میں ریاسی ریلوے اسٹیشن کے لیے کام آخری مرحلے میں ہے، جو جموں بارہمولہ لائن کا ایک حصہ ہے، جہاں 105 فٹ گھاٹی پر بنے پل نمبر 39 پر کنکریٹ کی سلیبیں بچھائی گئی ہیں۔ پل کے لیے جتنے بھی ستون نصب کیے گئے ہیں، ان میں درمیان والے ستون کی اونچائی قطب مینار سے زیادہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ ماہ فروری میں شمالی ریلوے نے کٹرا-بانہال سیکشن میں سب سے طویل ریل ٹنل کو مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ریلوے کے مطابق اس سٹریچ پر ٹرین 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی۔ پٹری بچھانے کا کام جاری ہے۔