سخت حفاظتی انتظامات کے بیچ 17لاکھ 44ہزار سے زائد ووٹران اپنی رائے دہی کا استعمال کریںگے
سرینگر///فل پروف سیکورٹی کے بیچ وادی کی سب سے انتہائی حساس مانے جانے والی سرینگر پارلیمانی نشست پر پیر13مئی کو انتخابات ہونگے،جس میں نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی اور اپنی پارٹی سمیت24 امیدواروں کی سیاسی قسمت کا فیصلہ17لاکھ40ہزار ووٹر کریں گے۔جبکہ اس نشست پر 52ہزار کشمیری پنڈت بھی ووٹ کااستعمال کررہے ہیں ۔ سرینگر نشست میں پارلیمانی انتخابات کے دوران 2004-میں-18.57فیصدی ووٹ پڑے ،2009-میں- 25.55فیصدی ، 2014-میں – 25.86فیصدی ووٹ پڑے اور 2019-میں-14.43فیصدی ووٹنگ کی شرح رہی ۔اس نشست پر ماضی میں35سال تک شیخ خاندان کی تینوں پیڑیوں نے راج وتاج قائم کر کے10مرتبہ فتح کا پرچم لہرایا۔وائس آف انڈیا کے مطابق سخت حفاظتی بندوبست کے بیچ لوک سبھا انتخابات کے چوتھے مرحلے کے تحت سرینگر پارلیمانی نشست کیلئے سوموار کو ووٹ ڈالے جائیں گے اور اس بار بغیر کسی ہڑتالی کال کے سرینگر واد ی کشمیر میں انتخابات منعقد ہورہے ہیں ۔ ادھر 17ہزار سے زائد ووٹر اپنی رائے دہی کا استعمال کرنے جارہے ہیں جبکہ اس نشست پر 52ہزار کشمیری پنڈت بھی ووٹ کااستعمال کررہے ہیں ۔ سرینگر نشست میں پارلیمانی انتخابات کے دوران 2004-میں-18.57فیصدی ووٹ پڑے ،2009-میں- 25.55فیصدی ، 2014-میں – 25.86فیصدی ووٹ پڑے اور 2019-میں-14.43فیصدی ووٹنگ کی شرح رہی ۔سرینگر پارلیمانی نشست5اضلاع پر پھیلی ہوئی ہیں جس میں18اسمبلی حلقوں کو شامل کیا گیا ہے،جن میں حد بندی کے بعد تشکیل شدہ3 نئی اسمبلی نشستیں لال چوک،چھانہ پورہ ,سینٹرل شالہ ٹینگ بھی شامل ہے۔18 اسمبلی حلقوں میں کنگن،گاندربل،حضرتبل،خانیار،حبہ کدل،لال چوک،چھانہ پورہ،جڈی بل،سونہ وار،عیدگاہ، سینٹرل شالہ ٹینگ،خان صاحب،چرار شریف،چاڈورہ، پانپور، ترال،پلوامہ، راجپورہ اور شوپیاں قابل ذکر ہے۔وی او آئی کے مطابق حد بندی کے بعد جہاں سرینگر پارلیمانی نشست میںجنوبی کشمیر کے2اضلاع پلوامہ اور شوپیاں کی6نشستوں کو شامل کیا گیا وہی ضلع بڈگام کی2نشستوں بڈگام اور بیروہ کو حذف کیا گیا۔ سرینگر پارلیمانی نشست میں رائے دہندگان کی مجموعی تعداد17لاکھ44ہزار27ہے جن میں8لاکھ74ہزار48مرد اور98لاکھ69ہزا916خواتین رائے دہندگان کے علاوہ63خواجہ سراہ بھی شامل ہیں۔ تقریباً 52ہزار100 نقل مکانی کرنے والے رائے دہندگان سری نگر لوک سبھا حلقہ سے 13 مئی کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ ان میں سے25ہزار760 مرد ووٹر اور 26ہزار340 خواتین ووٹر ہیں جن کیلئے کل26 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے ہیں، جن میں سے21 جموں، 4 دہلی اور ایک ادھم پور میں ہے۔13مئی کو ہونے والے الیکشن میں24امیدواروں کی سیاسی تقدیر قلمبند ہوگی۔ اس نشست پر نیشنل کانفرنس کی آغا روح اللہ،پی ڈی پی کے وحید الرحمان پرہ اور اپنی پارٹی کے محمد اشرف میر کے مابین تکونی مقابلے کا امکاں ہے جبکہ، ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے عامر، پینتھرس پارٹی کے امیدوار حقیت سنگھ، لوک تانترک پارٹی کی روبینہ اختر ،گنا سورکھشا پارٹی کے محمد یوسف بٹ،بھارت جوڑو پارٹی کے محمد یونس میرکے علاوہ آزاد امیدوار امین ڈار،جاوید احمد وانی،جبران فردوس ڈار،جہانگیر احمد شیخ،ریاض احمد بٹ،سجاد احمد ڈار،شاہ نواز حسین شاہ،شیبان عشائی،صائم مصطفی،غلام محمد وانی،فیاض احمد بٹ،ڈاکٹر قاضی اشرف،مرزا سجاد حسین بیگ،نثار احمد وانی،وحیدہ تبسم شاہ اور وسیم حسین شیخ بھی میدان میں ہیں۔یہ نشست ماضی میں نیشنل کانفرنس کا مظبوط قلعہ ثابت ہوا ہے اور اس پارٹی نے 10مرتبہ اس نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔سرینگر نشست پر سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ا نے کامیابی کی ہیٹرک ماری ہیں،تاہم ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس نشست پرجمنی انتخابات سمیت5مرتبہ جیت درج کی ہے۔اس نشست پر واحد کامیاب ہونے والی خاتون بیگم اکبر جہاں ہیں۔سرینگر پارلیمانی نشست پر آزاد امیدوار عبدالرشید کابلی نے سب سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت درج کی ہے جبکہ سب سے کم ووٹوں سے کانگریس کے امیدوار میر غلام محمد نے کامیابی حاصل کی۔ کسی زمانے میں نیشنل کانفرنس کا قلعہ مانے جانے والی اس نشست پر1967سے ہوئے 15انتخابات کے دوران نیشنل کانفرنس نے سب سے زیادہ10مرتبہ کامیابی کا پرچم لہرایا ہے جبکہ 2مرتبہ آزاد امیدواروں اور ایک مرتبہ کانگریس اور پی ڈی پی نے بھی اس نشست پر اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ ممبران کو ہار کی دھول چٹوائی ہے۔بخشی غلام محمد بھی اس نشست پر ایک مرتبہ فاتح ہوئے ہیں۔ اس نشست پر نیشنل کانفرنس کی تینوں نسلوں نے35برس تک اپنا دبدبہ قائم کیا ہے۔جس کے دوران سابق وزراء اعلیٰ عمر عبداللہ نے تین بار اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے5بار انتخابات میں فتح حاصل کی۔ 1967میں اس نشست پر ہوئے انتخاب کے دوران نیشنل کانفرنس کے بخشی غلام محمد نے اپنے نزدیکی مد مقابل کانگریس کے اے ایم طارق ( علی محمد طارق) کو تقریبا 9ہزار ووٹوں سے شکست دی۔1971میں سرینگر پارلیمانی حلقے پر ہوئے انتخابات کے دوران آزاد امیدوار شمیم احمد شمیم نے کانگریس کے امیدوار بخشی غلام محمد کو تقریبا 58ہزار ووٹوں سے شکست دی۔نیشنل کانفرنس کی خاتون امیدوار بیگم اکبر جہاں نے 1977کے پارلیمانی انتخابات کے دوران نیشنل کانفرنس کو اس نشست سے سرخ رو کیا اور اس وقت کے کانگریس کے امیدوار مرحوم مولوی افتخار حسین انصاری کو تقریبا 1لاکھ 13ہزار ووٹوں سے شکست دی۔نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ 1980میں سرینگر پارلیمانی نشست سے بلامقابلہ کامیاب ہوئے۔سرینگر بڈگام پارلیمانی نشست پر سب سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہونے والے امیدوارعبدالرشید کابلی ہے۔نیشنل کانفرنس کی جیت پر بریک لگاتے ہوئے 1984میں آزاد امیدوار عبدالرشید کابلی نے نیشنل کانفرنس کے امیدوار مظفر احمد شاہ کو تقریبا 2لاکھ 80ہزار ووٹوں سے شکست فاش کیا۔1989کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے محمد شفیع بٹ نے اس نشست پر بلا مقابلہ کامیابی حاصل کی۔ اس نشست پر سب سے کم ووٹوں سے کامیابی حاصل کرنے والے کانگریس کے غلام محمد میر ہے جنہوں نے کم و قلیل ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ کانگریس کے امیدوار غلام محمد میر نے 1996میں ہوئے انتخابات کے دوران جنتا دل کے امیدوار فاروق احمد اندرابی کو تقریبا 1500ووٹوں سے شکست دی۔عمر عبداللہ نے پہلی مرتبہ 1998کے سرینگر پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو سرخ رو کیا اور انہوںنے کانگریس کے امیدوار آغا سعید مہدی کو تقریبا 70ہزار ووٹوں سے شکست فاش کیا۔ عمر عبداللہ نے 1999کے انتخابات میں دوسری مرتبہ اس نشست پر کامیابی حاصل کی اور آزاد امیدوار کے طور پر اس انتخاب میں شرکت کرنے والی محبوبہ مفتی کو 37ہزار ووٹوں سے شکست دے دی۔وی او آئی کے مطابق 2004کے انتخابات میں عمر عبداللہ نے ہٹرک مارتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سرینگر پارلیمانی نشست سے کامیابی حاصل کرکے اپنے نزدیکی مد مقابل پی ڈی پی امیدوار ایڈوکیٹ غلام نبی لون ہانجورہ کو 23ہزار ووٹوں سے شکست دی۔عمر عبداللہ نے98ہزار422ووٹ حاصل کیں جبکہ انکے نزدیکی مد مقابل پی ڈی پی کے غلام نبی لون ہانجورہ75ہزار263ووٹ لینے میں کامیاب رہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے 2009میں ہوئے پارلیمانی انتخابات کے دوران اپنے نزدیکی مد مقابل پی ڈی پی امیدوار مولوی افتخار حسین انصاری کو 30ہزار 242ووٹوں سے شکست دی۔ ڈاکٹر عبداللہ نے ایک لاکھ47ہزار35جبکہ انکے مد مقابل افتخار حسین انصاری نے ایک لاکھ16ہزار793ووٹ حاصل کیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو تاہم 2014 پارلیمانی انتخابات کے دوران ہار کا منہ دیکھنا پڑا جب پی ڈی پی امیدوار طارق حمید قرہ نے انہیں قریب40ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست دی،اور پی ڈی پی نے پہلی مرتبہ اس نشست پر اپنی فتح کا پرچم لہرایا۔ طارق حسین قرہ ایک لاکھ57ہزار923جبکہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ ایک لاکھ15ہزار643ووٹ لینے میں کامیاب رہیں۔فاروق عبداللہ نے تاہم2017کے ضمنی انتخابات کے دوران پی ڈی پی کے نذیر احمد خان کو10ہزار876 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ ڈاکٹر عبداللہ نے48ہزار555جبکہ انکے نزدیکی مد مقابل پی ڈی پی کے نذیر احمد خان نے37ہزار779ووٹ حاصل کیں۔ 2019میں اس نشست پر ہوئے انتخابات کے دوران نیشنل کانفرنس کے امیدوار ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے5 ویں مرتبہ اس نشست پر جیت درج کرکے پی ڈی پی امیدوار آغا محسن کو70ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ڈاکٹر عبداللہ نے ایک لاکھ6ہزار750ووت حاصل کئے جبکہ پی ڈی پی امیدوار آغا محسن نے36ہزار700ووٹ حاصل کیں،تاہم پیپلز کانفرنس کے امیدوار عرفان رضا انصاری28ہزار773ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔










