muharam

سرینگرمیں 33برس بعد روایتی راستوں سے محرم کے جلوس برآمد

پوری فضاء حضرت امام حسین اوردیگرشہدائے کربلا ء کے حمدوثناء کی گونج سے معطر

عزاداروں کیلئے سیول وپولیس انتظامیہ کی جانب سے جگہ جگہ مشروبات کاانتظام ، ہزاروں کاجلوس مکمل نظم و ضبط اور امن وامان سے مربوط تھا:پولیس حکام

سری نگرشہر سری نگرکے کچھ اندرونی اورسیول لائنز علاقوں میں جمعرات کوعلی الصبح اُسوقت شہدائے کربلاکے حمدوثناء کی گونج سنائی دی ،اور پوری فضاء اللہ اکبراللہ اکبر اور یاحسین یاحسین ؑ کے نعروں سے معطر ہوئی ،جب تین دہائیوں کی طویل مدت کے بعد انتظامیہ کی اجازت کے تحت محرم الحرام کے جلوس برآمدہوئے ،جن میں سیاح لباس پہنے ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی ،اور نوسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین ؑ اور دیگر شہدائے کربلاء کے تئیں اپنی والہانہ عقیدت اور محبت کااظہار کیا۔اس دوران سیول اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے محرم جلوس کیلئے پختہ سیکورٹی اورعزاداروں کیلئے سہولیاتی اقدامات اُٹھائے گئے تھے ۔خیال رہے انتظامیہ نے 8محرم کاجلوس جمعرات کو صبح 6بجے سے 8بجے تک نکالنے کی اجازت دی تھی ،تاہم یہ مذہبی جلوس مقررہ وقت کے بعد بھی کافی وقت تک روایتی مذہبی جوش وخروش اور پُرامن انداز میں جاری رہا۔اس دوران ایس ایس پی سری نگرسمیت سینئرپولیس افسران جلوس کے مختلف راستوں پر عزاداروں کو مشروبات پیش کرتے رہے ۔ جموں و کشمیر پولیس نے جمعرات کو کہا کہ 8 محرم کا جلوس امن اور استحکام کی طرف جاری مارچ میں ایک اور تاریخی دن رہا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حالات ان دنوں کے برابر ہیں جب یہاں امن وامان تھا۔جے کے این ایس کے مطابق تین دہائیوں سے زیادہ مدت کے بعد سری نگرمیں شعیہ برادری کی جانب سے روایتی راستوں سے محرم کے جلوس نکالے گئے ،جن میں ہزاروں عزاداروںنے انتہائی عقیدت واحترام اور تزک واحتشام کیساتھ شرکت کی ۔ نواسہ رسول حضرت امام حسین ؑ اوردیگرشہدائے کربلاء کی شجاعت کے ذکرواذکار اور حمد و ثناء کے درمیان شہرسری نگر کے علاقے گرو بازار سے تاریخی محرم جلوس جمعرات کو مقررہ وقت یعنی صبح6بجے برآمد ہوا ،جو بڈشاہ چوک سے ہوکر اور پھر مولاناآزاد روڑ سے گزرتے ہوئے پُرامن طریقے سے ڈلگیٹ پہنچا۔ا ہجرت پر پہنچا۔محرم کے اس تاریخی جلوس میں کشمیر کے مختلف علاقوں سے آئے ہزاروں کی تعدادمیں عزاداروں نے شرکت کی ،جو راستے میں شہدائے کربلاء کی تعریفیں اور ثناء خوانی کرتے رہے جبکہ جگہ جگہ عزادار سینہ کوبی کرتے ہوئے حضرت امام حسین ؑ اوردیگر شہدائے کربلاء کی شہادت کے تئیں اپنے جذبات کااظہار کرتے رہے ۔ہاتھوں میں حضرت امام حسین ؑ کے اونچے پرچم (الم) اٹھائے،عزادار راستوں میں نعرہ تکبیر اللہ اکبر اورنواسہ رسول ﷺکے حق میں حمد و نوح کے نعرے لگا رہے تھے۔اس دوران سیول اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے محرم جلوس کیلئے پختہ سیکورٹی اورعزاداروں کیلئے سہولیاتی اقدامات اُٹھائے گئے تھے۔عزاداروں نے کہا کہہم ایل جی انتظامیہ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اتنے طویل وقفے کے بعد ہمیں جلوس نکالنے کی اجازت دی۔انہوں نے کہا کہ یہ واقعی ہمارے لیے ایک خوشی اور عظیم لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ محرم ہر مسلمان کو حضرت امام حسین (ع) کے نقش قدم پر چلنے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی یاددہانی کرتا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے کہا کہ بدھ کو سری نگر میں سیکورٹی جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں آٹھویں محرم کے جلوس کو روایتی راستوں سے گزرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ جلوس کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے جمعرات کو صبح2 بجے سے افسران اور جوانوں کو سڑکوں پر تعینات کر دیا گیا تھا اور محرم جلوس پرامن طور پرانعقاد کیاگیا،جواطمینان بخش ہے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر سری نگر محمد اعجاز اسد نے کہا کہ تین دہائیوں کے بعد محرم کے جلوس کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں کہوں گا کہ یہ امن کے فوائد میں سے ایک ہے۔ڈی سی سری نگر نے مزید کہا کہ عزاداروں نے تعاون کیا ہے اور انتظامیہ نے بھی عزاداروں کی سہولیت کیلئے انتظامات کئے تھے ۔جموں و کشمیر پولیس نے جمعرات کو کہا کہ 8 محرم کا جلوس امن اور استحکام کی طرف جاری مارچ میں ایک اور تاریخی دن رہا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حالات ان دنوں کے برابر ہیں جب یہاں امن وامان تھا۔ایک بیان میں پولیس ترجمان نے کہا کہ اس دن کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے جب دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کی چھوٹی سیاست کے سائے نے اس طرح کی تقریبات کا انعقاد ناممکن بنا دیا تھا، گزشتہ 33 سال سے محرم جلوس نہیں نکالا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آج جب اسے تین دہائیوں کے بعد دوبارہ شروع کیا گیا تو یہ پرامن اور خوشحال مستقبل کے عزم اور عزم کو ظاہر کرتا ہے۔پولیس نے مزید کہاکہ محرم جلوس صبح 6 بجے شروع ہوا اور 11 بجے پُرامن طریقے پر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس کے آغاز سے قبل صبح سے ہی ٹریفک کا انتظام بہترین رہا۔بیان میں کہاگیاکہ 8محرم کے جلوس کی شکل میں 25000 سے زائد افراد کا اجتماع مکمل نظم و ضبط اور امن وامان سے مربوط تھا اور یقیناً ہمارے لوگوں کے لئے ایک اور تاریخی دن ہے۔