صبح و شام کے اوقات میں گاڑیاں گھنٹوں رہ جاتی ہیں درماندہ
سرینگر//سرینگر جو سمارٹ سٹی کی طرف گامزن ہے میں ٹریفک کا دبائو دن بدن بڑھتا ہی جارہا ہے ۔ سرینگر شہر کے ارد گرد علاقوں سے لالچوک، بٹہ مالو، کرنگر، صدر ہسپتال یا دیگر جگہوں تک پہنچتا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ خاص کر صبح اور شام کے اوقات میں ٹریفک جام اس قدر ہوتا ہے کہ لوگ گاڑیاں چھوڑ کر پیدل چلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں تاہم نجی گاڑی والے قطار در قطار رینگتے ہوئے آگے بڑھتے رہتے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق سمارٹ سٹی کے سفر کے دوران شہر میں بے ہنگم ٹریفک بڑھ رہا ہے ۔ اورٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ نے ٹریفک نظام پر سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ بڑے شہروں قصبوں کی سڑکوں پر آ ئے دن جوٹریفک جام ہو رہاہے اس نے سنگین رُخ اختیار کیاہے شہر میں نصب کی گئی ٹریفک سنگنلوں کے باوجود بھی ٹریفک نظام کسی ایک ڈگر پر نہیں ہے ۔ صبح سرکاری دفتروں اسکولوں کالجوں کے دروازے کھلنے اور دفتروں اسکولوں کالجوں یونیورسٹیوں سے چھٹی ہونے کے بعد شہرسرینگر میں ٹریفک کاجو حال سامنے آ رہاہے وہ ٹریفک محکمہ کی آنکھیں کھولنے کے لئے کا فی ہے اگر 21وی صدی میں سمارٹ سیٹیوں میں ٹریفک کاحال بے حال ہو گا تو دوسرے معاملات کیاہو نگے ۔ جموںو کشمیرمیں بالعموم اور وادی کشمیرمیں بالخصوص ٹرنسپورٹ پالسی کاقیام عمل میں لانے کے خاطر دعوے اور وعدے تو کئے جارہے ہے تاہم ٹرانسپورٹ نظام کاقیام عمل میں لانے کے خاطر ایک سمارٹ سٹی کے لئے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے ۔بلا ہم انتظامیہ کے افسران کے بڑی سوچ کے مالک تو نہیں ہے لیکن یہ بات کہنے میں شا ئد کسی حد تک حق بجانب ہے کہ جموںو کشمیرمیں بالعموم اور وادی کشمیرمیں بالخصوص ٹریفک نظام کی درستی ٹریفک جام سے لوگوں کونجات دلانے ا و رٹریفک پالسی کا قیام عمل میں لانے کے لئے شایدہی اقدامات اٹھائے گئے ہے۔اکیسوی صدی میں جب انسان ہو اسے بھی تیز بھاگنے کی دوڑ میں ماہر ہورہاہے تاکہ کم سے کم وقت میں وہ ترقی کی ان تمام منزلوں کوچھولے جن کے ساتھ انہیں واسطہ پڑے گا اگر چہ ملک کی دوسری ریاستوں اور مرکزی زیرنتظام علاقوں کے لوگوں کی یہ خواہش کسی حد تک پوری ہوجاتی ہے کہ وہ ہوا سے بھی تیز دوڑ لگانے میں کامیاب ہوجاتے ہے تاہم وادی کشمیرمیں یہ خواب شا یدہی کامیابی سے کبھی ہمکنار ہوگا ۔یہاں ٹریفک جام میں اب بھی ایمبولینس گاڑیاں درماندہ ہوجاتی ہیں اور ایسے کئی واقعات سامنے آئے کہ ہماری بہوبیٹیوں نے ایمبولنسوں میں ہی بچوں کوبھی جنم دیا۔ٹریفک جام سے نجات دلانے اور ٹریفک میں معقولیت لانے کے لئے دور جدید کی ان تمام سہولیات کواختیار کرنا سرکار کاحق ہے اور وادی کشمیرمیں بھی ان سہولیات کواستعمال میں لایاگیا۔ ٹریفک کے بڑھے دبائو کی وجہ سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سرکاری کام کاج بھی متاثر ہورہا ہے ۔ سرکاری افسران بھی ٹریفک جام میں کئی گھنٹوں تک پھنس جاتے ہیں ۔










