سرینگر// انتظامیہ کی جانب سے سرکاری نرخ ناموں اور مٹن قانون کی خلاف ورزی کرنے والے قصابوں کے خلاف جاری کریک ڈائون کے بیچ پیر کو قصابوں نے احتجاج کرتے ہوئے دکانوں کو سربمہر کرنے کے سلسلے کوبند کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران دکانوں کو سربمہر کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور مجموعی طور پر رواں مال کے دوران117 دکانوں کو سیل کیا گیا۔ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی جانب سے اضافی قیمتوں میں گوشت فروخت کرنے والے قصابوں کے خلاف کریک ڈائون کا سلسلہ جاری ہے،جس کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر رواں ماہ کے دوران117 دکانات کو سربمہر کیا گیا۔ انفورسمنٹ ونگ کے سربراہ اور محکمہ شہری رسدات و امور صارفین کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مشتا ق احمد وانی نے کہا کہ محکمہ نے قصاب و ہول سیل مٹن ڈیلروں کی انجمن کو اعتماد میں لیکر2021میں گوشت کی قیمت535روپے فی کلو بغیر اجڑی مقرر کی تھی،تاہم خریداروں سے مسلسل شکایتیں موصول ہو رہی تھی کہ قصاب سرکاری نرخ نامے کے برعکس600روپے سے650روپے تک فی کلو گوشت فروخت کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر قصابوں کو متنبہ کیا کہ وہ سرکاری نرخ نامے کا نفاذ عمل میں لائے اور صارفین کو لوٹنے کا سلسلہ بند کریں،وگرنہ ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔مشتاق احمد وانی نے لوگوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ محکمہ کو مطلع کریں کہ کس جگہ پر اضافی قیمتوں میں قصاب گوشت فروخت کرتے ہیں۔ ہول سیل مٹن ڈیلرس ایسو سی ایشن کے سنیئر لیڈر اور کشمیر اکنامک الائنس کے سیکریٹری معراج الدین گنائی نے سرکار کو مشورہ دیا کہ وہ حقیقت کا ادراک کریں اور بازار میں گزشتہ2برسوں کے دوران اشیاء کی قیمتوں میں ہوئے اضافے کو مد نظر رکھ کر ہی کاروائی عمل میں لائے۔ ان کا کہنا تھا کہ2برس قبل کشمیر اکنامک الائنس نے بیرون منڈیوں کا دورہ کرکے صوبائی انتظامیہ کو رپورٹ پیش کی تھی،جس میں منڈیوں میں با? کے علاوہ گوشت کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے سفارشات بھی پیش کی گئی تھی،تاہم ان سفارشات کو زیر غور نہیں لایا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر سفارشی رپورٹ کو زیر غور لایا جائے گا اور ان سفارشات کو زمینی سطح پر نافذ کیا جائے گا،تو منڈیوں میں گوشت کی قیمت کنٹرول پر رہے گی اور مقامی ڈیلروں کو بھی معقول قیمت پر گوشت دستیاب ہوگا۔ کشمیر بوچرس ایسو سی ایشن کے صدر خضر محمد ریگو نے کشمیر عظمیٰ نے سرکاری کاروائی کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکار نے2برس قبل گوشت کی قیمت مقرر کی تھی،اور تب سے لیکر اب تک ٹرانسپورٹ کے علاوہ بازار مین دیگر اشیاء میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ منڈیوں میں ہی گوشت کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے،اور گوشت کا کاروبار کرنے والے بیچ میں پھنس گئے ہیں۔ادھر گزشتہ2 ہفتوں کی کاروائی کے بعد شہر میں گوشت کی خریداری میں جزوی اثرات مرتب ہوئے ہیں،اور مصنوعی قلت پیدا ہوئی ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سرکاری کاروائی کے بعد گوشت چور بازار میں اضافی قیمتوں میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ محمد رفیق نامی ایک نوجوان نے بتایا کہ صبح اور شام کے وقت قصاب من مانے قیمتوں میں اپنے گھروں میں گوشت فروخت کرتے ہیں۔لوگوں کا مزید کہنا ہے کہ سرینگر میں قصابوں کے خلاف کاروائی کے نتیجے میں دیہی علاقوں اور قصبوں میں قصابوں نے گوشت کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے،اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔انہوں نے سرینگر کے حدود سے باہر بھی قصابوں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس مخمصے کی صورتحال کے بیچ پیر کو سرینگر میں قصابوں نے احتجاج کرتے ہوئے انکی دکانوں کو سربمہر کرنے کے سلسلے کو فوری طور پر بند کیا جائے۔ انہوں نے کہا ان کی دکانوں کو بنا بتائے کبھی تو کبھی دوسرے بہانے سیل کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ تنگ آکر یہاں انصاف کے لئے آئے ہیں۔










