سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کوبہترسہولیت فراہم کرنے کی غبارے سے ہوا نکل گئی

جنوبی کشمیرمیں 322میں150 اسکولوں کوکوئی سہولیت دستیاب نہیں

سرینگر//سرکاری اسکولوں میںتعلیم کواونچائیوںپر لے جانے زیرتعلیم طلبہ وطالبات کوہرطرح کی جدید سہولیت فراہم کرنے محکمہ تعلیم کے دعوے کے غبارے سے اس وقت ہوا نکل گئی جب اس بات انکشاف ہوا کہ جنوبی کشمیرکے چار اضلاع میں2622سرکاری اسکولوں میںاب بھی 150کے قریب اسکو ل کرایہ کے مکانوںاو رٹین شڈوں میں قائم ہیں ۔جہاں زیرتعلیم طلبہ وطالبات کوبجلی کی عدم دستیابی پینے کے پانی کی قلت اور بیٹھنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے ۔محکمہ تعلیم کے ساتھ جب اس سلسلے میںرابطہ قائم کیاگیا تو ان کامانناہے کہ آ نے والے ماہ کے دوران ان اسکولوں کے لئے بلڈنگیں تعمیرکرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں وسطی اور شمالی کشمیر میں بھی سات سو کے قریب اسکول اب بھی یاتودو کمروں پرمشتمل ہے یا کرایہ کے مکانوں میں چل رہے ہیں اور کرایہ داروں کاکہناہے کہ انہیں مہوار یاسالانہ محکمہ تعلیم کی جانب سے کرایہ کی رقومات نہیں مل پارہی اس لئے وہ اپنے مکانوں کوخالی کرانے کی کوشش کررہے ہیں ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق جموں وکشمیرمیں محکمہ تعلیم کادعویٰ ہے کہ نئی تعلیمی پالسی لاگوکرنے کے ساتھ ساتھ جموںو کشمیر میں سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم طلبہ وطالبات کودو جدیدکی ضرورتیںاور سہولیات فراہم کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیاجائیگا اور سرکاری اسکولوں کوجدیدخطوط پر استوار کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جارہے ہیں تاہم محکمہ تعلیم کے اس واقعے کے غبارے سے اس وقت ہوا نکل گئی جب شمالی وسطی اور جنوبی کشمیر میں سینکڑوں سرکاری اسکولوں کے بارے میں جانکاری ملی کہ وہی توکرایہ کے کمروں میں ہے یاٹین کے شڈوں میں درس وتدریس کاکام ہورہاہے۔ جنوبی کشمیرکے چار اضلاع شوپیاں، پلوامہ ، اننت ناگ اورکولگام میں مجموعی طور پر 3622سرکاری اسکول ہیں جن میں سے 150 کے قریب سرکاری اسکول رہائشی مکانوں یاٹین کے شڈوں میں طلبہ وطالبات کو درس وتدریس کے لئے دستیاب ہے ۔وسطی اور شمالی کشمیرمیں بھی ایسے اسکولوں کی تعداد سینکڑوں کے قریب ہے اور جب بھی محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کے ساتھ کرایہ کے کمروں اور ٹین کے شڈوں میں اسکوں کے ہونے کامعاملہ اٹھایاجاتاہے تومحکمہ تعلیم ہربار یہ یقین دلاتاہے کہ بس آ نے والے ماہ کے دوران ایسے اسکولوں کے لیت بلڈنگوں کاقیام عمل میں لایاجائیگا اور انہیں بجلی فراہم کرنے پینے کاپانی دستیاب رکھنے کے لئے ہرممکن اقداما ت اٹھائے جائینگے ۔اطلاعات کے مطابق دوردرازعلاقوں میں جوسرکاری اسکول قائم کئے گئے ہے ان میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کوکھیل کود کے لئے کوئی سہولیت ان اسکولوں میں دستیاب نہیں ہے ایک طرف کھیل کود کو فروغ دینے کے لئے بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہے ملکی اوربین الاقوامی ٹورنامنٹوں کاانعقاد کیاجاتاہے اور دوسری جانب ہزاروں کی تعداد میںنونہالوں کو بنیادی سطح پر کھیل کود سے محروم کیا جارہاے ۔عوامی حلقوںکے مطابق سرکار کواس بات کاسنجیدہ نوٹس لیناچاہئے کہ جن اسکولوں میں کھیل کے میدان نہ ہووہاں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کوکھیلوں کے بارے میں کون جانکاری دیگا جب وہ خود کھیلتے ہی نہیں اور دور دراز علاقوں میں ہائی اسکولوں میں بھی اس طرح کی سہولیات طلبہ وطالبات کوشاید ہی میسر ہے اورہائی اسکولوں سے جوطلبہ وطالبات ہائرسیکنڈریوں میں داخلہ لیتے ہیں وہاں وہ کھیل کود میں حصہ لیناچاہئے تو وہ اپنے آپ کو نادانستہ قرار دے کر ان کھیلوں کی طر ف توجہ نہیں دیاکرتے ہیں اور ایسااس لئے کہ بنیادی سطح پرانہیں یہ سہولیت اسکولوں میں دستیاب نہیں ہے ۔