books

سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم طلباء وطالبات کیلئے نصابی کتابوں کی فراہمی کامعاملہ

ابھی تک کشمیرمیں لاتعدادطلبہ کے پاس کتابیں نہیں،آج ڈیڈ لائن مقرر،پھربھی کوئی رہ جائے تواُس کوکتابیں دی جائیں گی:جوئنٹ سیکرٹری

سری نگر// اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے ابتک سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم مختلف جماعتوںکے طلباء وطالبات کیلئے نصابی کتابیں فراہم نہیں کی گئی ہیں ،اور اگرکتابیں فراہم کی گئی ہیں ،تووہ کسی جماعت میں زیرتعلیم یادرج طلبہ کیلئے کافی نہیں ۔تاہم BOSEکے حکام نے واضح کیاکہ تمام زونل ایجوکیشن افسروں کو شیڈول دیاگیاہے کہ وہ کب یاکس دن بورڈ سے اسکولوں کیلئے نصابی کتابیں حاصل کرسکتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ نصابی کتابوںکی فراہمی کاعمل 28اپریل کومکمل کیاجائے گا ،اوراگر اسکے بعد بھی کوئی اسکول نصابی کتابیں حاصل نہ کرپائے توایسے اسکولوں کیلئے بھی کتابیں دی جائیں گی ۔قابل ذکر ہے کہ مارچ کے مہینے میں اعلیٰ حکام کی ہدایت پر سرکاری اسکولوںکے سربراہان اور اساتذہ نے زوردار داخلہ مہم چلائی ،جسکے نتیجے میں ہزاروں طلباء اور طالبات نے نجی یا پرائیویٹ اسکولوں سے نکل کرسرکاری اسکولوںمیں داخلہ لیالیکن اب ان طلبہ ے والدین اپنے بچوں بچیوں کے تعلیمی مستقبل کو لیکر کافی پریشان ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق اب جبکہ نئے تعلیمی سیشن کاآغاز ہوچکاہے اورسبھی اسکول کھلے گئے ،تو تقریباًایک مہینہ گزرجانے کے باوجود بھی سرکاری اسکولوںمیں زیرتعلیم طلباء اور طالبات کومبینہ طور پر ابھی تک پوری نصابی کتابیں فراہم نہیںکی گئی ہیں ،جسکے باعث اسکولوںمیں درس وتدریس کاعمل متاثر ہورہاہے ۔کئی سرکاری اسکولوںکے منتظمین اور ٹیچروںنے بتایاکہ سرکاری اسکولوںمیں زیر تعلیم یا نئے داخل طلباء وطالبات ابتک نصابی کتابیں حاصل نہیں کرسکے ہیں ۔متعلقین نے بتایاکہ اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے بیشتر سرکاری اسکولوں میں مختلف جماعتوںمیں زیرتعلیم طلبہ کیلئے آدھی نصابی کتابیں ہی فراہم کی گئی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ اگرکسی جماعت یاکلاس میں 50طلباء یاطالبات زیرتعلیم ہیں تووہاں آدھے طلبہ کیلئے کتابیں فراہم کی گئی ہیں ،جسکے نتیجے میں طلباء وطالبات بالخصوص نجی اسکولوں سے سرکاری اسکولوںکارُخ کرنے والے طلبہ اوراُن کے والدین سخت مایوس اور پریشان ہیں ۔اس دوران ایک سرکاری اسکولوں کے ٹیچر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ ایک جماعت میں زیرتعلیم چالیس سے زیادہ بچوں کیلئے اُردو کی ایک نصابی کتاب بورڈکی جانب سے فراہم کی گئی ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ ہمارے اسکولوںکا حال بہت برا ہے ،کیونکہ ہمارے یہاں زیرتعلیم طلباء اور طالبات کوابتک پوری کتابیں نہیں دی گئی ہیں ۔مذکورہ ٹیچر نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ جب بچوںکے پاس کتابیں ہی نہیں ہیں توہم کیسے اُن کوپڑھاسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اسکول سربراہان محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرتے تھک گئے ہیں ،لیکن اسٹیٹ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے ابتک سرکاری اسکولوں میں زیرتعلیم طلباء اورطالبات کیلئے نصابی کتابوںکی دستیابی اورفراہمی یقینی نہیں بنائی جارہی ہے ۔ کے حکام نے واضح کیاکہ تمام زونل ایجوکیشن افسروں کو شیڈول دیاگیاہے کہ وہ کب یاکس دن بورڈ سے اسکولوں کیلئے نصابی کتابیں حاصل کرسکتے ہیں ۔بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے جوائنٹ سیکرٹری پبلکیشنزالطاف حسین نے کہاکہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کیلئے نصابی کتابوںکی فراہمی کاعمل 28اپریل کومکمل کیاجائے گا ،اوراگر اسکے بعد بھی کوئی اسکول نصابی کتابیں حاصل نہ کرپائے توایسے اسکولوں کیلئے بھی کتابیں دی جائیں گی ۔الطاف حسین نے کہاکہ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن نے تمام چیف ایجوکیشن افسروں سے مختلف ایجوکیشنل زونز میں قائم سرکاری اسکولوں میں درکار کتابوںکی فہرستیں حاصل کی گئیں ،اور اسی ضرورت یاRequirementکے تحت مختلف کلاسوںمیں زیرتعلیم طلباء اور طالبات کیلئے مختلف مضامین کی نصابی کتابیں چھپوائی گئیں ۔انہوںنے مزید کہاکہ زونل ایجوکیشن افسروںنے اپنے زونز میں قائم سرکاری اسکولوںمیں درج یازیرتعلیم مختلف کلاسوںکے طلباء اورطالبات کی کل تعدادکے حساب سے نصابی کتابوںکی فراہمی کیلئے بورڈ سے رجوع کیا ،جسکے بعد بورڈ کی جانب سے تمام ایجوکیشنل زونز کیلئے شیڈول ترتیب دیاگیاکہ کب کس زون کیلئے نصابی کتابیں فراہم کی جائیں گی ۔بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کے جوائنٹ سیکرٹری پبلکیشنزالطاف حسین نے کہاکہ BOSEنے نصابی کتابوں کی درکار تعداد پہلے ہی چھپوائی ہے اور سبھی سرکاری اسکولوں کیلئے اُن کی ضرورت کے حساب سے نصابی کتابیں بہم رکھی گئی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کشمیرڈویژن میں سرکاری اسکولوںمیں زیرتعلیم مختلف جماعتوں کے طلباء وطالبات کونصابی کتابوںکی فراہمی کاعمل 28اپریل کومکمل کیاجائے گا ،تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہاکہ اگر اسکے باوجود کوئی اسکول یاکسی اسکول میں زیرتعلیم کسی بھی جماعت کے طلبہ کتابیں حاصل نہ کرپائیں تواُن کودرکارنصابی کتابوںکی فراہمی یقینی بنائی جائے گی ۔