ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے ضرورت مندوں اور بے سہارا لوگوں میں کھانے کی اشیاء تقسیم کیں

سرکاری اسکولوں میں،بنیادی ڈھانچے اورلازمی سہولیات کافقدان حکام کی نظروں سے اوجھل کیوں ؟

بڈگا م میں ہائی اسکول طالبات پولٹری فارم میں بیٹھنے پرمجبور

سری نگر//سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے اورسہولیات میں بہتری لانے کے دعوئوںکے بیچ وسطی ضلع بڈگام کے ایک دُورافتادہ علاقہ میں قائم ایک سرکاری ہائی اسکول میں زیرتعلیم 200طالبات ایک پولٹری فرام میں تعلیم حاصل کرنے پرمجبور ہیں جبکہ یہاں طالبات کیلئے واش روم اورنہ ہی کھیل کودکیلئے کوئی گرائوند ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق وسطی ضلع بڈگام کے سنی دارون گائوںمیں دہائیوںسے طالبات کیلئے ایک ہائی اسکول قائم ہے ۔سال2010میں اسکول کیلئے نئی عمارت تعمیر ہوکر مکمل ہوگئی لیکن زمین مالکان نے اس پر قبضہ کر لیا۔مقامی لوگوں کے بقول زمین مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اُنہیں معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا مگر جب وعدہ پورا نہیں ہوا تب جاکر انہوں نے عمارت کو بند کر دیا۔لوگوںنے بتایاکہ مجبوراًہائی اسکول کویہاں واقع ایک پولٹری فارم میں منتقل کیاگیا۔انہوںنے مذکورہ پولٹری فارم کی کھڑکیوںکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ یہاں ابھی بھی وہیں جال لگے ہیں ،جو یہاں مالک نے مرغ پالتے وقت لگائے تھے ۔انہوںنے کہاکہ اب کئی برسوں سے یہاں قائم ہائی اسکول اسی پولٹری فارم سے چلایا جا رہا ہے۔ روزانہ بچے اپنی تعلیم حاصل کرنے کے لئے کھیت پر ہوتے ہیں۔پولٹری فارم کو اسکول میں تبدیل کیا گیا، نہ تو کھیل کا میدان ہے اور نہ ہی بیت الخلاء کی سہولیت دستیاب ہے۔اسکول میں زیرتعلیم طالبات اورعملہ نے کہاکہ یہاںصرف ایک ٹوائلٹ یعنی بیت الخلاء ہے، جس کی وجہ سے ان کیلئے مشکل ہے۔ طالبات کیلئے الگ ٹوائلٹ ہونا چاہیے، جو یہاں نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب بارش ہوتی ہے، روشنی کم ہوجاتی ہے، اور خراب روشنی ان کے اسکول کے وقت پر اثر انداز ہوتی ہے، کیونکہ طالبات کچھ بھی نہیں دیکھ پاتی۔دوسری جانب والدین کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کرکے اپنا مستقبل سنواریں لیکن جب اسکول کی یہ حالت ہوگی تو بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟انہوں نے انتظامیہ سے ان پر توجہ دینے کی اپیل کی۔ ایک طالب علم کے والد نے کہا کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اب ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ بچے کچھ پڑھیں۔ اگر اسکول اچھا نہیں ہوگا تو ہمارے بچے ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بنیں گے۔ اگر سہولیات ہوتیں تو بچے بہت اچھے جوش و جذبے سے پڑھتے اور وہ آگے بڑھنے کے قابل بھی ہوتے۔اسکول کیلئے تعمیر شدہ عمارت پرقابض زمین مالکان کاکہناہے کہ جب وہ وعدے پورے نہ ہوئے تو ہم نے عمارت پر قبضہ کر لیا۔ مالکان کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے اور انتظامیہ بالکل لاپرواہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم تعلیم کے خلاف نہیں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اسکول اچھا ہو، لیکن ہم سے پہلے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔ اس معاملے پر ایس ڈی ایم چاڈورہ پرنس حمید نے کہا ہے کہ اس معاملے میں کارروائی کی جا رہی ہے اور حکام بالا تک بات پہنچائی گئی ہے۔ بہت جلد مسئلے کا حل نکال لیا جائیگا۔