21اور 22دسمبر کو بالائی علاقوں کے ساتھ ساتھ میدانوں میں ہلکی بارشوں اور برفباری کا امکان / محکمہ موسمیات
سرینگر // سردیوں کا بادشاہ 40دن پر محیط ’’ چلہ کلان ‘‘ تختہ اقتدار پر برا جمان ہونے کے ساتھ ہی جموں، کشمیر اور لداخ کو شدید سردی کی لہر نے اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور امسال دہائیوں کی سردیوں نے پھر ریکارڈ قائم کیا ہے ۔اسی دوران ایک مرتبہ پھر گزشتہ شب شہرسرینگر میں رواں موسم کی سردترین رات گزری جس میں درجہ حرارت منفی 6.2ڈگری سیلشس درج کیا گیا جس کے نتیجے میں متعدد دیگر آبی ذخائر منجمد ہوئے ۔ کشمیر وادی میں شوپیان میں منفی 10ڈگری کے ساتھ مسلسل سرد ترین علاقہ درج ہوا جبکہ خطہ لداخ میں زوجیلا میںمنفی 24ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا ۔ اس دوران محکمہ موسمیات نے اگلے 24گھنٹوں تک موسم خشک رہنے کی پیشگوئی کرتے ہوئے سردیوں میںمزید اضافہ کا امکان ظاہر کیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وادی میں شدیدٹھنڈ جاری رہنے کے ساتھ ساتھ اگرچہ دن بھر ہلکی دھوپ نکل آتی ہے تاہم شبانہ درجہ حرارت میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے ۔ شہر سرینگر میں گزشتہ شب کا درجہ حرارت منفی 6.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر اور صوبائی علاقے لہہہ اور کرگل میں سردی کی شدید لہر نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور یخ بستہ ہوائوں کی وجہ سے شدید سردی کی لہر جاری ہے ۔ محکمہ موسمیات کے حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ شب سرینگر شہر میں سرد ترین رات رہی اور را ت کا درجہ حرارت منفی6.2ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ کے مطابق درجہ حرارت میں کمی ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی سخت ترین سردی کے لپیٹ میں آچکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے ساتھ ساتھ لداخ خطہ بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے ۔چلہ کلان کی آمد سے ایک دن قبل ہی وادی کشمیر میں شدید ٹھنڈ جاری ہے ۔محکمہ موسمیات کے مطابق سرینگر میں رواں موسم کی سرد ترین رات درجہ ہوئی جس دوران رات کا درجہ حرارت منفی 6.2ڈگری سیلشس درج ہوا ۔ محکمہ موسمیات نے کہا کہ شوپیان میں سب سے کم درجہ حرارت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ خطہ لداخ میں زوجیلا کا انتہائی سرد ترین مقام رہا جہاں رات کا درجہ منفی 24ڈگری سیلشس ریکارڈ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.0 ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا۔جبکہ مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.2 ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.6 ڈگری سیلشس اور کپواڑہ میں منفی 6.5 ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ شدید سردی کی وجہ سے سرینگر اور دیگر اضلاع میں کئی مقامات پر پانی کے نلکوں کے دم گھٹنے کے ساتھ ساتھ پانی کے ذخائر جم گئے۔اسی دوران چالیس ایام پر مشتمل شدید سردی کا ’چلہ کلان‘ کی آمد ہوئی اور جمعہ اور سنیچروار کی درمیانی رات سے بادشاہ چلہ کلان جلو افرو ز ہو رہا ہے ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں آئندہ 24گھنٹوں تک موسمی صورتحال میں تبدیلی نہ آنے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ سردی کی لہر میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 21 دسمبر کو موسم عام طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے اوکچھ مقامات پر ہلکی برفباری کا امکان ہے ۔ ادھر شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں سخت ترین ٹھنڈ جاری رہی اور دن کے وقت بھی لوگوں کو آنے جانے میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ رات کے وقت سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کے بعد لوگ اضافی بسترے ، کمبل ، گرم ملبوسات اور روم ہیٹر و واٹر بوتل جیسی چیزیں خریدنے پر مجبور ہورہے ہیں اور متعلقہ دکاندار لوگوں کی مجبوری یا ضرورت کا خوب فائدہ اٹھارہے ہیں اور انہوں نے یکایک ان سبھی چیزوں کی قیمتوں میں من مانے طور اضافہ کر دیا ہے ۔










