فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے اختتام پر شائقین کی ووٹنگ کی بنیاد پر ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا تاہم اسپین کے نوجوان دفاعی کھلاڑی پاؤ کیوبارسی اور گول کیپر اونائی سیمون کی عدم شمولیت نے فٹبال حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔
فیفا کے مطابق ٹورنامنٹ کی بہترین الیون دنیا بھر کے مداحوں کی ووٹنگ سے منتخب کی گئی ہے جس میں کینیڈا، امریکا اور میکسیکو میں ہونے والے عالمی مقابلوں کے دوران نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ 4-3-3 فارمیشن پر مشتمل اس ٹیم میں سات مختلف ممالک کے کھلاڑی جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔ نومنتخب عالمی چیمپئن اسپین کی نمائندگی دفاعی کھلاڑی مارک کوکوریلا، پیڈرو پورو اور مڈفیلڈر روڈری کر رہے ہیں جبکہ رنر اپ ارجنٹینا سے کپتان لیونل میسی اور دفاعی کھلاڑی لیسانڈرو مارٹینیز کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔
39 سالہ لیونل میسی نے ٹورنامنٹ میں 8 گول اور 4 اسسٹ کے ساتھ ایک بار پھر شاندار کھیل پیش کیا اور ارجنٹینا کو فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
فرانس کے کائلیان ایمباپے، مائیکل اولیسے اور ڈیوٹ اوپامیکانو بھی بہترین الیون کا حصہ ہیں۔ ایمباپے نے 10 گول کر کے گولڈن بوٹ اپنے نام کی اور ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے جبکہ مائیکل اولیسے نے 7 اسسٹ کے ساتھ ایک ہی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ اسسٹ دینے کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔
انگلینڈ کے جوڈ بیلنگھم نے 7 گول اسکور کر کے بہترین الیون میں جگہ بنائی جبکہ ناروے کے ارلنگ ہالینڈ نے اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں 7 گول کر کے شاندار آغاز کیا۔
گول کیپر کی حیثیت سے کیپ وردے کے تجربہ کار ووزینیا کو منتخب کیا گیا جن کی غیرمعمولی کارکردگی نے ورلڈ کپ میں ڈیبیو کرنے والی ان کی ٹیم کو یادگار مہم طے کرنے میں مدد دی۔
تاہم فیفا کی اس انتخابی فہرست پر سب سے زیادہ اعتراض اسپین کے دفاعی کھلاڑی پاؤ کیوبارسی اور گول کیپر اونائی سیمون کی عدم شمولیت پر سامنے آیا ہے۔
کیوبارسی نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار دفاعی کھیل پیش کرتے ہوئے ینگ پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا اعزاز حاصل کیا جبکہ عالمی چیمپئن اسپین نے پورے ایونٹ میں صرف ایک گول کھایا اور حریف ٹیموں کو محض 10 مرتبہ گول پر نشانہ لگانے کا موقع دیا۔
دوسری جانب اونائی سیمون نے 7 کلین شیٹس کے ساتھ گولڈن گلوو ایوارڈ اپنے نام کیا، جس کے باوجود انہیں بہترین الیون میں شامل نہ کیے جانے پر شائقین نے حیرت کا اظہار کیا۔
اگرچہ ووزینیا کی شمولیت کو ان کی غیرمعمولی انفرادی کارکردگی اور کیپ وردے کی تاریخی مہم کے تناظر میں درست قرار دیا جا رہا ہے تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اسپین کی تاریخی دفاعی کارکردگی کو ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں زیادہ نمائندگی ملنی چاہیے تھی۔
فٹبال شائقین کا ایک بڑا حلقہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ ڈیوٹ اوپامیکانو یا لیسانڈرو مارٹینیز میں سے کسی ایک کی جگہ پاؤ کیوبارسی یا ایمیرک لاپورٹ کو شامل کیا جا سکتا تھا۔
فیفا کی جانب سے اعلان کردہ یہ بہترین الیون اگرچہ انفرادی کارکردگیوں کا اعتراف ہے تاہم اسپین کے دفاعی شعبے کو کم نمائندگی ملنے پر بحث بدستور جاری ہے۔










