rajnath singh

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ 25 اور 26 جولائی کو جموں و کشمیر اور لداخ کے دورے پر

سرینگر میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں سے ملاقات کا امکان،جموں کشمیر کی موجودہ سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع

سرینگر// بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کرگل وجے دیوس 2026 کی تقریبات کے سلسلے میں 25 اور 26 جولائی کو جموں و کشمیر اور لداخ کا دو روزہ دورہ کریں گے۔ اس دوران وہ دراس وار میموریل میں منعقد ہونے والی مرکزی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے 1999 کی کرگل جنگ کے مہلوکین کو خراجِ عقیدت پیش کریں گے، جبکہ سرینگر میں فوج کے اعلیٰ کمانڈروں سے ملاقات کرکے جموں و کشمیر کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کا بھی امکان ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں مصروفیات کے باوجود وزیر دفاع نے کرگل وجے دیوس کی تقریبات میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے، جسے قومی سطح پر فوجی قربانیوں اور بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی ایک اہم تقریب تصور کیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق راج ناتھ سنگھ 25 جولائی کی سہ پہر یا شام نئی دہلی سے سرینگر پہنچیں گے اور 15 کور ہیڈکوارٹر، بادامی باغ میں تعینات اعلیٰ فوجی حکام سے ملاقات کریں گے۔ اگرچہ ان کے دورے کا حتمی شیڈول جمعہ کو جاری کیا جائے گا، تاہم امکان ہے کہ اس ملاقات کے دوران وادی کشمیر اور جموں خطے کی موجودہ سیکورٹی صورتحال، لائن آف کنٹرول پر حالات، انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں اور امرناتھ یاترا کے دوران سیکورٹی انتظامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ حالیہ مہینوں میں سرحدی علاقوں میں پیش آنے والے واقعات اور یاترا کے پیش نظر یہ ملاقات خصوصی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔یو این ایس کے مطابق 26 جولائی کی صبح وزیر دفاع ہیلی کاپٹر کے ذریعے دراس روانہ ہوں گے، جہاں وہ کارگل وار میموریل پر منعقد ہونے والی مرکزی تقریب میں شرکت کریں گے۔ وہ وہاں کارگل جنگ میں شہید ہونے والے فوجیوں کو پھولوں کی چادر چڑھاکر خراجِ عقیدت پیش کریں گے اور تقریب سے خطاب بھی متوقع ہے۔ بعد ازاں ان کے نئی دہلی واپس روانہ ہونے کا امکان ہے۔کارگل وجے دیوس کی تقریبات میں اس بار بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دھیراج سیٹھ بھی شریک ہوں گے۔ 30 جون 2026 کو چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا لداخ کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل دھیراج سیٹھ دراس میں تقریب میں شرکت کے علاوہ لیہ میں واقع 14 کور ہیڈکوارٹر کا بھی دورہ کر سکتے ہیں، جہاں وہ مشرقی لداخ میں تعینات فوجی فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں اور سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔وزیر دفاع اور آرمی چیف کے ساتھ شمالی کمان کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل پراتک شرما اور 14 کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل مدن راج پانڈے بھی موجود ہوں گے۔ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونئی کمار سکسینہ، کارگل خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر محمد جعفر اخون، سول اور فوجی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران، سابق فوجی، شہداء کے اہل خانہ اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ بھی تقریب میں شرکت کریں گے۔یو این ایس کے مطابق کرگل وجے دیوس کی تقریبات کے پیش نظر دراس اور کارگل میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ فوج، جموں و کشمیر پولیس، لداخ پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے مشترکہ طور پر تقریب کے پْرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تعینات رہیں گے۔ دراس، کارگل اور قومی شاہراہ کے حساس مقامات پر نگرانی مزید سخت کی جا رہی ہے تاکہ تقریب کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔یاد رہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 14 جولائی کو نئی دہلی کے نیشنل وار میموریل سے شوریہ وجے یاترا کے نام سے 13 روزہ یادگاری موٹر سائیکل مہم کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔ون رائیڈ، ون نیشن، ون سلام کے عنوان سے جاری اس مہم میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں، سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ سمیت 28 موٹر سائیکل سوار تقریباً 1900 کلومیٹر کا سفر طے کرتے ہوئے پنجاب، ہماچل پردیش اور لداخ سے گزرتے ہوئے 26 جولائی کو دراس پہنچیں گے، جہاں وہ کارگل وجے دیوس کی مرکزی تقریب میں شریک ہوں گے۔واضح رہے کہ کرگل وجے دیوس ہر سال 26 جولائی کو 1999 کی کرگل جنگ میں بھارتی فوج کی کامیابی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ مئی 1999 میں شروع ہونے والی اس جنگ کے دوران بھارتی فوج نے تقریباً 85 روز تک جاری رہنے والی شدید لڑائی کے بعد کرگل کی برف پوش چوٹیوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اس جنگ میں بھارتی مسلح افواج کے 527 اہلکار شہید ہوئے جبکہ بھارتی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً چار ہزار پاکستانی فوجی اور درانداز مارے گئے تھے۔ ان قربانیوں کی یاد میں ہر سال دراس وار میموریل میں مرکزی تقریب منعقد کی جاتی ہے، جہاں ملک کی سیاسی و فوجی قیادت شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے۔