سنگم اور رام منشی باغ میں سیلابی نشان عبور ہونے کا خدشہ، نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو چوکس رہنے کی ہدایت
سرینگر// جموں و کشمیر میں مسلسل موسلادھار بارشوں کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے، جس کے پیش نظر محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول اور محکمہ موسمیات نے کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری کیا ہے۔ حکام کے مطابق اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا تو دریائے جہلم سنگم اور رام منشی باغ کے مقامات پر سیلابی اعلان کی سطح عبور کر سکتا ہے۔ حکام کے مطابق دریائے جہلم میں سنگم،رام منشی باغ اور عشم کے ان تمام مقامات پر پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ ولر جھیل میں بھی پانی کی سطح بڑھنے کا رجحان دیکھا گیا۔دریائے جہلم کی معاون ندیوں میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ویشو نالہ کھڈونی وانی ،لدر نالہ بٹکوٹ،رمبی آرا نالہ واچی ،دودھ گنگا برزلہ میں کمی اور سندھ نالہڈوڈرہامہ میں پانی کی سطح مستحکم رہی۔کشمیر ویدر کی جانب سے صبح ساڑھے گیارہ بجے جاری کردہ تازہ پیش گوئی میں بتایا گیا کہ جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ چھ سے آٹھ گھنٹوں تک سنگم اور رام منشی باغ میں دریائے جہلم کے سیلابی نشان عبور کرنے کا امکان موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق لدر اور ویشو نالوں میں بھی ان کے آبی ذخائر میں مسلسل بارش کے باعث مزید اضافہ متوقع ہے۔آوارہ کے مقام پر نالہ لدر میں پانی کی برق رفتاری نے دائیوریژن کو بہا لیا۔انتظامیہ نے نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو صورتحال پر گہری نظر رکھنے، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور ضرورت پڑنے پر فوری حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ادھر ادھم پور میں دریائے توی نے دوپہر ساڑھے بارہ بجے فلڈ الرٹ لیول عبور کر لیا۔ حکام کے مطابق دریا میں پانی کی سطح 16.65 فٹ تک پہنچ گئی، جبکہ الرٹ لیول 15 فٹ مقرر ہے۔ دریا کا ڈینجر لیول 20 فٹ اور انخلا لیول 23.4 فٹ مقرر کیا گیا ہے۔ صرف تیس منٹ کے دوران پانی کی سطح میں 6.65 فٹ کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جسے شدید بارشوں کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق مسلسل پانچ روز سے جاری موسلادھار بارشوں کے باعث جموں-سرینگر قومی شاہراہ جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی ٹریفک کے لیے بند رہی، جبکہ مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ، پتھر گرنے اور سڑک کے کٹاؤ نے بحالی کے کام کو شدید متاثر کیا ہے۔ تقریباً 250 کلومیٹر طویل جموں-سرینگر قومی شاہراہ، جو وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی واحد ہمہ موسمی شاہراہ ہے، ادھم پور کے جکھانی سے رام بن کے بنیہال تک کم از کم پانچ مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے، پتھر کھسکنے اور سڑک کے کٹاؤ کے باعث بند ہے۔ٹریفک پولیس نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ متعدد حساس مقامات پر مسلسل لینڈ سلائیڈنگ اور شوٹنگ اسٹونز کے باعث شاہراہ پر ہر قسم کی ٹریفک معطل رکھی گئی ہے۔حکام کے مطابق شاہراہ کی بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے، تاہم مسلسل بارش ملبہ ہٹانے، سڑک کی مرمت اور ٹریفک بحال کرنے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔شاہراہ بند ہونے کے باعث 600 سے زائد گاڑیاں رام بن، نگروٹہ، جموں، ادھم پور، لکھن پور اور سانبہ سمیت مختلف مقامات پر پھنسی ہوئی ہیں۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ موسم بہتر ہونے اور شاہراہ کو محفوظ قرار دیے جانے تک غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں۔قومی شاہراہ کے علاوہ ایک درجن سے زائد بین الاضلاعی سڑکیں بھی لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور سڑکوں کے کٹاؤ کے باعث بند ہیں، جبکہ ڈوڈہ-کشتواڑ سڑک بھی ٹریفک کے لیے معطل ہے۔ البتہ مغل روڈ اور سرینگر،سونہ مرگ،گمری روڈ پر ٹریفک جاری ہے، اگرچہ ان راستوں پر بھی مسلسل بارش کا سلسلہ برقرار ہے۔محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ جمعرات کو سانبہ، کٹھوعہ، ادھم پور اور چناب ویلی کے اضلاع میں مزید بارش متوقع ہے، جو بعد ازاں جنوبی کشمیر تک پھیل سکتی ہے۔ محکمہ کے مطابق جمعرات کی شام تک درمیانی سے شدید بارش کا امکان برقرار ہے، جبکہ جمعہ کو ایک فعال مغربی ہواؤں کے سلسلے کے زیر اثر ایک اور بارش کا دور جموں و کشمیر کو متاثر کر سکتا ہے۔حکام نے بتایا کہ تقریباً تمام بڑے دریا اور ندی نالے طغیانی کی حالت میں بہہ رہے ہیں، جبکہ اچانک آنے والے سیلاب سے کئی نشیبی علاقوں میں آبادی، مکانات، دکانیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔یو این ایس کے مطابق مسلسل بارشوں سے سڑکوں، پلوں، بجلی کے نظام اور پینے کے پانی کی فراہمی کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ اضلاع میں سول انتظامیہ، پولیس، ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس قومی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور دیگر اداروں کی ٹیمیں متاثرین کی مدد، پھنسے ہوئے افراد کے انخلا، رابطہ سڑکوں کی بحالی اور نقصانات کے تخمینے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔حکام کے مطابق حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد، بنیادی سہولیات کی بحالی اور متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشنز کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاسی میں سب سے زیادہ 119.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ کٹرا (97.4 ملی میٹر)، رام بن (71.5)، جموں (60.6)، بٹوت (60.4)، ادھم پور (53.2)، بنیہال (53.0) اور دیگر علاقوں میں بھی شدید بارش ہوئی۔وادی کشمیر میں قاضی گنڈ میں 73.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ پہلگام (60.2)، کوکرناگ (47.9)، گلمرگ (39)، سنگم (37)، ویر ناگ (35.3)، اونتی پورہ (31.2)، بارہمولہ (30.5) سمیت بیشتر علاقوں میں بھی اچھی خاصی بارش درج کی گئی۔ ادھر لداخ کے ضلع لیہ میں صرف 0.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔یو این ایس کے مطابق محکمہ موسمیات نے جمعرات کو پیش گوئی کی ہے کہ سانبہ، کٹھوعہ، ادھم پور اور چناب ویلی کے اضلاع میں مزید بارش کا امکان ہے، جس کے بعد یہ سلسلہ جنوبی کشمیر کے بعض علاقوں تک پھیل سکتا ہے۔محکمہ کے مطابق جمعرات کی شام تک درمیانی سے موسلادھار بارش جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ خبردار کیا گیا ہے کہ فعال مغربی ہواؤں کے زیرِ اثر جمعہ کے روز جموں و کشمیر میں ایک اور بارش کا سلسلہ اثر انداز ہونے کا امکان ہے۔










