انسدادِ دہشت گردی میں عوامی تعاون ناگزیر، بلڈوزر کارروائیاں حل نہیں// وزیر اعلیٰ
سرینگر// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اننت ناگ میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد مبینہ دہشت گردوں کے گھروں کو منہدم کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی انتقامی کارروائیوں سے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کا مستقل خاتمہ صرف عوام کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی ممکن ہے۔یو این ایس کے مطابق جمعرات کو سرینگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ پولیس کے غم و غصے کو سمجھتے ہیں، تاہم سپریم کورٹ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ کسی بھی معاملے میں اس نوعیت کی فوری یا یکطرفہ کارروائی نہیں کی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ’”میں پولیس کے جذبات کو سمجھ سکتا ہوں، لیکن سپریم کورٹ کے احکامات موجود ہیں کہ اس قسم کی خلاصہ کارروائی مناسب نہیں۔‘وزیر اعلیٰ نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھی کچھ مکانات کو بلڈوزر کے ذریعے گرایا گیا تھا، جس پر انہوں نے مرکزی حکومت سے مداخلت کرکے ایسی کارروائیوں کا سلسلہ رکوانے کی درخواست کی تھی۔انہوں نے کہا کہ بعد میں پہلگام حملے کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ حملے میں کوئی مقامی شخص ملوث نہیں تھا بلکہ تمام حملہ آور باہر سے آئے تھے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ گھروں کو گرانے یا ہزاروں افراد کو گرفتار کرنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے بلکہ اس سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔انہوں نے اپنے سابقہ دورِ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے تجربے کے مطابق صرف پولیس، فوج اور سی آر پی ایف کی کارروائیوں سے ایک حد تک ہی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، جبکہ دہشت گردی کا حقیقی خاتمہ اسی وقت ممکن ہوگا جب عام لوگ بھی اس تشدد کے خلاف متحد ہو جائیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ پہلگام حملے کے بعد عوام نے دہشت گردی کے خلاف کھل کر آواز بلند کی تھی اور آج بھی ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کے قتل پر لوگوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے واقعے کے بعد وادی بھر میں ایک ہزار سے زائد مبینہ اوور گراؤنڈ ورکرز کی گرفتاریوں کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے عوامی ناراضگی نظام کی طرف منتقل ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں عوام کا اعتماد اور تعاون حاصل کرنا ناگزیر ہے اور امید ظاہر کی کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے اس جدوجہد میں عوام کو ساتھ لے کر چلیں گے، کیونکہ دیرپا امن اور حقیقی کامیابی کا راستہ اسی سے ہو کر گزرتا ہے۔










