سرحدوں پر ڈرو ن کی بڑھتی سرگرمیاں : گرداس پور پنجاپ میں دو پاکستانی ڈرون پھر نظر آئیں

سرینگر / /سرحدوں پر ڈرون کی بڑھتی سرگرمیوں کے بیچ سرحدی حفاظتی فورس( بی ایس ایف ) نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب کے گردا س پور علاقے میں بین الاقوامی سرحد کے قریب دو پاکستانی ڈرون دیکھے گئے جس کے بعد بی ایس ایف کی فائرنگ سے وہ واپس جانے پر مجبور ہو گئے ۔ ادھر ڈرون کی نقل و حمل دیکھنے کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے ۔ادھر جموں میں فضائی اڈے کے نزدیک ڈرون کی مشکوک نقل و حرکت کے بعد بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق ہند پاک سرحدوں پر ڈرون سرگرمیوں میں آئے روز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جس کے بعد سرحدوں پر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ۔ ڈرون کی بڑھتی سرگرمیوں کے بیچ بی ایس ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے ایک ڈرون کو پنجاب کے گردواس پورہ ضلع کے کسووال علاقے میں بین الاقوامی سرحد کے قریب دیکھا گیاجبکہ دوسرے ڈرون کو بین الاقوامی سرحد پر امرتسر کے قریب دیکھا گیا ۔ بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ بغیر پائلٹ کی فضائی گاڑی ہفتے کی رات بارڈر سیکورٹی فورس کے دستوں کی فائرنگ کے بعد وہ واپس پاکستان کی طرف اڑ گئی۔انہوں نے بتایا کہ بی ایس ایف کے اہلکاروں نے ڈرون پر کم از کم 96 راؤنڈ فائر کیے اور پانچ الیومینیشن بموں کا بھی استعمال کیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہفتہ کی رات 12بجے امرتسر ضلع کے چنا پٹن علاقے میں ایک اور ڈرون دیکھا گیا۔جس کے بعد بی ایس ایف کے دستوں کی طرف سے 10 راؤنڈ فائر کرنے کے بعد ڈرون واپس چلا گیا۔بی ایس ایف کے ایک سنیئر افسر نے ا سکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بین الاقوامی سرحد پر دو پنجاپ سیکٹر میں دو پاکستانی ڈرون دیکھے گئے جس کے بعد بی ایس ایف نے ان پر فائرنگ کی اور دونوں واپس جانے پر مجبور ہو ہوئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ڈرون کے واپس جانے کے بعد دونوں علاقوں میں سرحد وں پر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیاس ڈرون کے ذریعے ہتھیار یا دیگر کچھ مواد تو نہیں پھنکا گیا ہے ۔