سپندن لیگ کی اِختتامی تقریب میں قوم کی تعمیر میں بی ایس ایف کے کردار کی ستائش کی
جموں// وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و امورِ صارفین، اِنفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس و ٹیکنالوجی، اَمورِ نوجوان و کھیل کود اور ٹرانسپورٹ محکمہ جات ستیش شرما نے ٹینس کورٹ، ایس ایچ کیو بی ایس ایف ، اندریشور نگرمیراں صاحب جموں ریجن لان ٹینس سپندن لیگ ۔2026کی اِختتامی تقریب میں شرکت کی ۔ بی ایس ایف کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کے بینر تلے منعقد ہ اس تقریب نے بارڈر سیکورٹی فورس کی قوم کے لئے 60برس کی بے لوث اور وقف خدمات کی یاد تازہ کی۔وزیر ستیش شرما نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے س اس موقع کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کیا اور بی ایس ایف کو ایسے پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد دِی جو کھیلوں کو سماجی اور قومی مقصد کے ساتھ جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیل صرف مقابلہ اور تمغے جیتنے کا ذریعہ نہیں بلکہ کردار سازی، سماجی تبدیلی اور قومی تعمیر کا ایک طاقتور ذریعہ ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ بی ایس ایف جیسے ادارے اپنی لگن اور نظم و ضبط کے ذریعے، ڈیوٹی کے دوران اور اس کے بعد بھی معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بنے ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ سپندن لیگ جیسے پروگرام نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل ہونے کے مواقع فراہم کرتے ہیں اور ایسی اقدار کو فروغ دیتے ہیں جو ایک صحت مند اور ترقی پسند معاشرے کی تعمیر کے لئے ضروری ہیں۔وزیرموصوف نے آرمڈ فورسز کے ساتھ اپنے ذاتی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ ان فوجیوں کی قربانیوں اور عزم کا احترام کرتے آئے ہیں جو ملک کی حفاظت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر تے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یونیفارم میں ملبوس مرد و خواتین کی جانب سے پیش کی جانے والی نظم و ضبط، خدمت اور فرض شناسی کی اقدار نسلوں کو متاثر کرتی ہیں اور قوم کے سماجی ڈھانچے کو مضبوط بناتی ہیں۔اُنہوں نے نوجوانوں کے مستقبل کی تشکیل میں کھیلوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کھیل نوجوانوں کو مقصد، اعتماد اور صحیح سمت فراہم کرتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کھیل کا میدان نوجوانوں کو نظم و ضبط، ٹیم ورک اور ثابت قدمی سکھاتا ہے اور ان میں عزم اور صحت مند مقابلے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ستیش شرما نے جموں و کشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے چیلنج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے معاشرے بالخصوص نوجوانوں کے لئے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ منشیات نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور مختلف کمیونٹیوں میں سماجی و جذباتی پریشانی پیدا کر رہی ہیں۔اُنہوں نے منشیات کے خلاف کھیلوں کو ایک مؤثر ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیلوں میں سرگرم شرکت نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھتی ہے اور ان کی توانائی کو تعمیری اور بامقصد کاموں کی طرف موڑتی ہے۔وزیرکھیل کود نے کہا، ’’ہر وہ نوجوان جو کھیلوں کا انتخاب کرتا ہے، وہ نشے کے بجائے نظم و ضبط اور انتشار کے بجائے عزم کا انتخاب کرتا ہے۔ کھیل نوجوانوں میں وابستگی اور مقصدیت کا احساس پیدا کرتے ہیں اور انہیں تباہ کن اثرات سے دور رکھتے ہیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لئے مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔ اُنہوں نے تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور کھیلوں کے اداروں پر مشتمل مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی اپیل کی تاکہ نوجوانوں کے لئے مزید مواقع پیدا کئے جا سکیں۔وزیر موصوف نے بالخصوص کھلاڑیوں اور نوجوانوں کے لئے صحت مند طرزِ زندگی اور متوازن غذا کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ فِٹنس کا آغاز مناسب غذائی عادات سے ہوتا ہے اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ صحت بخش اور قدرتی غذا کو اپنائیں۔اُنہوں مزید کہا کہ کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے اور نوجوانوں کی ترقی میں سرمایہ کاری دراصل معاشرے کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کھیلوں کے فروغ، نوجوان کھلاڑیوں کے لئے مواقع پیدا کرنے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیر نے منتظمین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے آرگنائزنگ کمیٹی، بی ایس ایف حکام اور ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد سے وابستہ تمام شراکت داروں کو مُبارک باد پیش کی۔ اُنہوں نے سپورٹس اتھارٹی آف اِنڈیا اور کھیلو انڈیا کی جانب سے کھیلوں کے فروغ اور ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کے لئے فراہم کردہ تعاون کو بھی سراہا۔اُنہوںنے اس بات کا اعادہ کیا کہ مضبوط ادارے، نوجوانوں کی فعال شرکت اور فروغ یافتہ کھیلوں کی ثقافت ہی ایک صحت مند، مضبوط اور منشیات سے پاک جموں و کشمیر کی تعمیر کی کنجی ہیں۔تقریب کا اِختتام فاتحین اور شرکأ میں انعامات کی تقسیم کے ساتھ ہو۔










