women

سال 2020-21کے دوران خواتین پر تشدد ڈھانے کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ

دو برسوں کے دوران 32خواتین نے خود کشی کی 1770اغواکاری کے واقعات رونماء ہوئیں7397کیس درج کئے گئے

سرینگر//جموں وکشمیر میں جرائم میں بہت زیادہ اضافہ ،صوفیوں، صنعتوں، پیروں، ولیوںکی سرزمین پر صنف نازک کے تشدد میں بے تحاشہ اضافہ دو برسوں کے دوران اغوا کاری کے 1770واقعات رونماء ،جبکہ گھریلوں تشد د میں 15%جہیز طلب کرنے میں سات فیصد اور گھریلوں اَن بن میں 15 %کا اضافہ ہو اہے ۔ اے پی آ ئی نیوز ڈیسک کے مطابق جموں وکشمیر میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وباء نے سنگین رُخ اختیار کیا۔مرکزی زیر انتظام علاقے میں عصمت ریزی کے واقعات میں اگرچہ کسی قدر کمی واقع ہوئی ہے تا ہم اغوا کاری جہیز گھریلوں تشدد کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔سال 2020میں 811اغوا کاری کے واقعات درج کئے گئے اور 2021میں اس طرح کے 960واقعات رونماء ہوئیں ۔قانون نافز کرنے والے اداروں کی جانب سے انصاف میں طوالت تاریخ پہ تاریخ کی وجہ سے صنف نازک کو نہ تو انصاف مل رہاہے اور نہ ہی ان کے تشدد آ میز واقعات میں کوئی کمی ہورہی ہے ۔2020میں 3717اور سال 2021میں 3880کیس درج کئے گئے ہے۔ سال 2020میںآبرو ریزی کے 299اور 2021میں 326اس طرح کے واقعات رونماء ہوئیں ۔2020میں خواتین کے ساتھ ایک ہزار 850اور 2021میں 2224واقعات رونماء ہوئیں ۔سال 2020میں 16خواتین نے اور 2021میں 18 خواتین نے خود کشی کر کے اپنی زندگیوں کوخاتمہ کیا۔سال 2020میںجہیز مانگنے کے 9اور سال 2021میں اس طرح کے 11واقعات رونماء ہوئیں جن کے بارے میں کیس درج کئے، حالانکہ جموں وکشمیرمیںانسداد جہیز ایکٹ پہلے سے ہی نافزالعمل ہے ۔سال 2020میں ہندوارہ میں 67اونتی پورہ میں 79پلوامہ میں 86چھیڑ چھاڑ کے واقعات درج کئے گئے جموں میں پچاس راجوری میں 32پونچھ میں 24کولگام میں 30سرینگر میں 30اور کپوارہ میں 18اس طرح کے کیسز درج کئے گئے ۔مجموعی طور پراس طرح کے واقعات صنف نازک کے ساتھ تشدد میں اضافہ کا رُح جان مل رہاہے جسپر مختلف مکتب ہائی فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کہا کہ جموںو کشمیرمیںوومنزخواتین کمشن صنف نازک کواس طرح کے واقعات پیش آ نے کے بعد کسی حد تک راحت کاری کاکام انجام دے رہاتھا جب کہ وومنزپولیس اسٹیشنوں کاقیام عمل میں تو لایاگیاہے مگر ابھی تک ان کی کار کردگی میں وہ نکھار دکھائی نہیں دے رہاہے جسکی توقع کی جاسکتی تھی ۔