کہا، فلم فیسٹول ثقافتی تبادلے اور تخلیقی اِشتراک کو فروغ دے گا
سری نگر// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر کے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹول ( آئی ایف ایف جے کے ) 2026 کی حتمی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ یہ فیسٹول 7 سے 10 ؍ستمبر تک سری نگر اور جموں میں منعقد ہوگا۔چار روزہ یہ فیسٹول کوایک عالمی سطح کے پلیٹ فارم کے طور پر تصور کیا جا رہا ہے جو سنیما کی بہترین تخلیقات، ثقافتی تبادلے، تخلیقی اِشتراک اور اُبھرتے ہوئے فلمی سازی کو اُجاگر کرے گا۔ اس کے ذریعے مختلف ممالک کی فلمی کمیونٹی کے ساتھ شراکت داری قائم کرنے کے مواقع پیدا ہوں گے اور جموں و کشمیر کے بھرپور ثقافتی اور سینمائی ورثے کو بھی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔کمشنر سیکرٹری اطلاعات آر ایلس ویز نے وزیراعلیٰ کو فیسٹول کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔ فیسٹول میں بین الاقوامی مقابلہ، سنیما آف دی ورلڈ، بھارت پینوراما، جے اینڈ کے سلیکٹ، بہترین ڈیبیو فلم، ڈاکیومنٹری/ہائبرڈ اور مختصر فلموں سمیت مختلف زُمروں میں فلموں کی نمائش شامل ہوگی۔ پروگرام میں ماسٹر کلاسز، پینل مباحثے، ’’اِن کنورسیشن‘‘ نشستیں، گول میز کانفرنسیں اور ورکشاپس بھی منعقد ہوں گی جن میں فلم ساز، اداکار،نقاد، سکالرزور فلم اِنڈسٹری کی دیگر اہم شخصیات شامل ہوں گی۔میٹنگ میں فیسٹول کے اہم مقامات جن میں شیرکشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر (ایس کے آئی سی سی )، آئی این او ایکس شیو پورہ سری نگر اور ویوز سنیما جموں شامل ہیں، پر اِنتظامات کا جائزہ لیا گیا۔للت گھاٹ پر مجوزہ فلوٹنگ سنیما کے انتظامات بھی زیرِ بحث آئے۔ منتخب فلم سازوں کے لئے گلمرگ کے مطالعاتی و تفریحی دورے کی تیاریوں پر بھی غور وخوض کیا گیاجس میں گنڈولہ، گالف کورس، گلمرگ کلب اور دیگر اہم سیاحتی مقامات کا دورہ شامل ہوگا۔وزیراعلیٰ نے فلم سازوں، فنکاروں، مندوبین، مہمانوں اور ناظرین کے لئے بہترین اور بلارُکاوٹ تجربہ یقینی بنانے کے لئے مختلف محکموں کے درمیان قریبی تال میل اور تمام اِنتظامات بروقت مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے تمام متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ مکمل طور پر تیار رہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ فیسٹول کے آغاز سے کافی پہلے تمام اِنتظامات مکمل کئے جائیں۔عمر عبداللہ نے فیسٹول کے دوران جموں و کشمیر کے بھرپور ورثے، مقامی ضیافتوں، دستکاریوں، روایتی فنون اور معروف سیاحتی مقامات کو نمایاں طور پر پیش کرنے پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ جے کے آئی ایف ایف کو عالمی فلمی کیلنڈر میں ایک ممتاز سالانہ ایونٹ کے طور پر قائم کرنے کے لئے جامع منصوبہ بندی اور تمام شراکت داروں کے درمیان بہترین تال میل ضروری ہے۔
میٹنگ میں سکیورٹی اور ٹریفک اِنتظامات، ہوائی اڈے پر سہولیات، مہمان نوازی اور پروٹوکول، رہائش، ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات، بجلی کی فراہمی، صفائی ستھرائی، خوبصورتی، مقامات کی تیاری اور دیگر لاجسٹک ضروریات کا بھی جائزہ لیا گیا۔محکمہ اطلاعات اور آنے والے مہمانوں کے ساتھ رابطے اور تال میل کو آسان بنانے کے لئے خصوصی رابطہ اَفسران اور نوڈل افسران تعینات کئے جا رہے ہیں۔محکمہ اطلاعات کو ہدایت دی گئی کہ وہ تمام محکموں کی ذمہ داریوں، مقررہ مدت، پیش رفت اور زیرِ اِلتوا ٔامور پر مشتمل ایک جامع ایکشن میٹرکس برقرار رکھے۔ اس کے علاوہ دعوت ناموں، شرکأ کی سہولیت اور میڈیا اِنتظامات کے لئے بھی مؤثر تال میل یقینی بنایا جائے۔ علاقائی اور قومی سطح پر پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور آؤٹ ڈور میڈیا کے ذریعے جے کے آئی ایف ایف کی وسیع تشہیر اور برانڈنگ کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس فیسٹول میں ملک اور بیرونِ ملک سے فلم ساز، فنکار، کہانی کار، فلمی صنعت کے رہنما، پالیسی ساز، ماہرینِ تعلیم، طلبأ اور ناظرین شرکت کریں گے جس سے سنیما کے ذریعے مکالمے، نیٹ ورکنگ اور باہمی تعاون کے مواقع پیدا ہوں گے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ جے کے آئی ایف ایف کو ایک ایسے بین الاقوامی فلیگ شپ ایونٹ کے طور پر ابھرنا چاہیے جو جموں و کشمیر کی ثقافتی میراث اور تخلیقی صلاحیتوں کو پوری دنیا کے سامنے پیش کرے جبکہ مقامی فلم سازوں اور ابھرتے ہوئے فنکاروں کے لئے بامعنی مواقع اور وسیع تر پلیٹ فارم بھی فراہم کرے۔میٹنگ میں وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اتل ڈولو، وزیراعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری فائنانس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ٹورازم، کمشنر سیکرٹری اطلاعات، سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری ثقافت، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، سیکرٹری مہمان نوازی و پروٹوکول، صوبائی کمشنر کشمیر، صوبائی کمشنر جموں، اِنسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون، آئی جی پی سکیورٹی، متعلقہ لائن محکموں کے سربراہان اور متعلقہ محکموں و ایجنسیوں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔افسران نے وزیر اعلیٰ کو تیاریوں کی موجودہ صورتحال اور فیسٹول کے کامیاب اور احسن اِنعقاد کو یقینی بنانے کے لئے کئے جا رہے اقدامات سے آگاہ کیا۔ آئوٹ سٹیشن افسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔










