جاوید ڈار نے جموںوکشمیر سے متعلق زرعی تحقیق اور اِختراع پر آئی سی اے آر کی توجہ پر زور دیا

جاوید ڈار نے جموںوکشمیر سے متعلق زرعی تحقیق اور اِختراع پر آئی سی اے آر کی توجہ پر زور دیا

نئی دہلی// وزیر برائے زرعی پیداوار، دیہی ترقی و پنچایتی راج، اِمدادِ باہمی اور الیکشن محکمہ جات جاوید احمد ڈار نے آج نئی دہلی میں اِنڈین کونسل آف ایگری کلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے 97ویں سالانہ جنرل میٹنگ میں شرکت کی۔وزیر موصوف نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی منفرد زرعی و موسمیاتی صورتحال، نازک ماحولیاتی نظام اور زراعت، باغبانی اور اس سے منسلک شعبوں میں موجود وسیع امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے جموں و کشمیر سے متعلق مخصوص زرعی تحقیق اور اختراع پر زیادہ توجہ دینے پر زور دیا۔اُنہوں نے تحقیقی ترجیحات کو مربوط کرنے اورآئی سی اے آر اِداروں، زرعی یونیورسٹیوں، سرکاری محکموں، سائنسدانوں، صنعتوں اور کسانوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لئے جموںوکشمیرمیں زرعی تحقیق کے لئے سٹیٹ کونسل کے قیام کی تجویز پیش کی۔وزیر زرعی پیداوار نے جموں و کشمیر کی تحقیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرتے ہوئے کہاکہ سکاسٹ جموں اور سکاسٹ کشمیر نے گزشتہ چار برسوں کے دوران 143 پیٹنٹ حاصل کئے ہیں۔ اُنہوں نے اس سائنسی صلاحیت کو زمینی سطح پر عملی حل میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں باغبانی کو تحقیق کی ایک اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے بیماریوں سے پاک اور خالص و معیاری پودے لگانے کے مواد، کورم کی افزائش، موسمیاتی طور پر لچکدار زعفران، جدید آبپاشی، میکانائزیشن، کوالٹی ٹیسٹنگ، ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ اور برآمدات پر مبنی پیداوار پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر موصوف نے متحرک، سائنسی اور خطے کی مخصوص پلانٹ قرنطینہ نظام کے قیام پر بھی زور دیا جو انواع اور میزبان کے مطابق پیسٹ رِسک اینالسس، حیاتیاتی پوسٹ انٹری قرنطینہ، مالیکیولر انڈیکسنگ اور عمل پر مبنی نباتاتی صحت کے سرٹیفیکیشن پر مبنی ہو۔جاوید ڈارنے مزید مویشی پالن، ڈیری، ماہی پروری، فصل کے بعد کے انتظام، پروسسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں تحقیق اور اِختراع کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ زرعی تحقیق کا حتمی مقصد پیداوار میں اضافہ، زرعی اخراجات میں کمی، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں بہتر لچک، منڈیوں تک بہتر رسائی اور کسانوں کی آمدنی میں اِضافہ ہونا چاہیے۔اُنہوں نے آئی سی اے آر جموں و کشمیر کی زرعی یونیورسٹیوں، سرکاری محکموں، سائنسدانوں، صنعت اور کسانوں کے درمیان مزید مضبوط تعاون پر زور دیا تاکہ تحقیق یونین ٹیریٹری کی مخصوص ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ رہے۔