سابق مرکزی وزیر غلام نبی آزاداورDPAP کو4ماہ بعد ایک بڑا جھٹکا

17لیڈران کی گھرواپسی،دوبارہ کانگریس میں شامل

سری نگر//5دہائیوں کے بعدکانگریس سے کنارہ کشی کرکے اپنی الگ پارٹیDPAPبنانے والے سابق مرکزی وزیر غلام نبی آزاد کواُسوقت ایک بڑا جھٹکالگا،جب اُن کی صف میں شامل ہونے والے تقریباًڈیڑھ درجن لیڈران نت گھرواپسی کرتے ہوئے کانگریس میں دوبارہ شمولیت اختیارکی ۔کانگریس کے تنظیمی جنرل سیکرٹری کے سی وینوگوپال اوردیگر لیڈران نے تاراچند ،پیرزادہ محمدسعید اور دیگر لیڈران کاپارٹی میں واپسی پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ اب جموں وکشمیر میں کانگریس پہلے سے زیادہ مضبوطی کیساتھ آگے بڑھے گی ۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق اپنے سیاسی کیریئر کازیادہ وقت یعنی تقریباً50سال کانگریس میں گزارنے کے بعدسابق مرکزی وزیر اور جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے گزشتہ برس کے وسط میں کانگریس سے کنارہ کشی اختیارکی ،اور پھرانہوںنے 26ستمبر2022کوڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹیDPAPنامی ایک نئی علاقائی سیاسی جماعت تشکیل دی ۔غلام نبی آزاد کوجموں وکشمیرمیں خاص پذیرائی ملی ،کیونکہ کانگریس سے وابستہ دودرجن سے زیادہ سینئر لیڈران بشمول سابق وزراء ،سابق ارکان قانون سازیہ نے غلام نبی آزاد کاہاتھ تھامتے ہوئے کانگریس چھوڑ دی ۔لیکن غلام نبی آزاد کی جانب سے لگائے گئے نئے سیاسی پودے DPAPمیں کچھ وقت بعدہی اندرونی خلفشار پیداہوا،اور گزشتہ ماہ اسی خلفشار کے بیچ غلام نبی آزاد نے سابق وزیراعلیٰ تاراچند کوڈی پی اے پی سے نکال باہر کردیا۔تب سے ہی یہ قیاس ارائیاں زور پکڑنے لگیں کہ ڈاکٹر نرمل سنگھ کیساتھ مزید کئی لیڈران DPAPکوچھوڑ کر گھرواپسی کرتے ہوئے دوبارہ کانگریس میں شامل ہونے جارہے ہیں ۔ان قیاس آرائیوںنے اُسوقت حقیقت کاروپ اپنا لیا،جب جمعے کی صبح آل انڈیاکانگریس کمیٹی کے نئی دہلی میں واقع جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے تقریباًڈیڑھ درجن لیڈران اورسینئر اراکین جمع ہوئے اورانہوںنے یہاں ایک پریس کانفرنس میں کانگریس میں دوبارہ شمولیت کااعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق کم از کم 17سیاسی لیڈران، جنہوں نے کانگریس کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کی قیادت والی پارٹی DPAPمیں شامل ہو گئے تھے، جمعہ کو نئی دہلی میں دوبارہ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ان لیڈران نے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد کی حمایت کیلئے استعفیٰ دے دیا تھا، جنہوں نے بعد میں اپنی پارٹی ڈیموکریٹک آزاد پارٹی بنائی، جسے اب ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کا نام دیا گیا ہے۔کانگریس کے سینئرلیڈران کے سی وینوگوپال، جئے رام رمیش، رجنی پاٹل اور شری پون کھیرا کے ہمارہ صبح ساڑھے11بجے بجے جموں وکشمیر کے لیڈران نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔نئی دہلی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں سابق نائب وزیر اعلیٰ تارا چند اور سابق وزیر پیرزادہ محمد سعید ان17 لیڈروں میں شامل تھے، جنہوں نے آج دوبارہ کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔DPAPچھوڑ کر واپس کانگریس میں شامل ہونے والوںمیں تارا چند، پیرزادہ محمد سعید، بلوان سنگھ، ایڈوکیٹ مظفر پرے، ایڈوکیٹ موہندر بھاردواج، بھوشن ڈوگرا، ویرود شرما، نریندر شرما، نریش شرما، امریش منگوترا، سبھاش بگھاٹ، سنتوش منہاس، بدری ناتھ شرما، ورون منگوترا، انورادھا شرما اور وجے سرگوترابھی شامل ہیں۔اس موقعہ پر ممبرپارلیمنٹ اور آل انڈیاکانگریس کمیٹی جنرل سکریٹری (تنظیم)، کے سی وینوگوپال نے کہا کہ قائدین دوبارہ پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سمیت ملک بھر کے ان لیڈروں اور لوگوں نے بھی بھارت جوڑو یاترا کی حمایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کے سابق قائدین نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ انہیں بھی اپنی پارٹی کی حمایت کرنی چاہئے اور اس طرح انہوں نے واپس شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔تارا چند نے پریس کانفرنس کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سیکولر طاقتیں زمین پر موجود مذموم عزائم کو شکست دینے کے لیے ہاتھ جوڑیں۔انہوں نے کہا کہ سیکولر ذہن رکھنے والوں کو ملک کی حفاظت کے لیے ہاتھ جوڑنا چاہیے۔ تارا چند نے کہا کہ ان کی سب سے بڑی غلطی کانگریس پارٹی چھوڑنا تھی اور ان سب کو احساس ہو گیا کہ وہ دھوکہ کھا گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمیں آزاد کی قیادت والی پارٹی میں شامل ہونے کے لیے دھوکہ دیا گیا کیونکہ کچھ لوگ ملک میں سیکولر ووٹ کو تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔تارا چند نے کہا کہ ہمیں احساس ہوا کہ یہ جموں و کشمیر میں بھی ہونے والا ہے لہٰذا ہم نے کانگریس پارٹی میں واپس شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔