زمین تا فضا ء سیکورٹی بندوبست کے بیچ سرینگر نشست پر انتخابات پُر امن طریقے سے اختتام

صبح 7بجے سے پولنگ عملی طور پر شروع ہوکر شام 6بجے کو ختم ہوئی

سرینگر///بے مثال حفاظتی انتظامات کے بیچ سرینگر پارلیمانی نشست پر سوموار کو انتخابی عمل اختتام پذیر ہوا جہاں مجموعی طور پر ووٹنگ کی شرح 35.75فیصدی ریکارڈ کی گئی ہے ۔لوک سبھا انتخابات میں پہلی بار لوگوں میں الیکشن کے حوالے سے اس قدر جوش و خروش دیکھنے کو ملا ۔ ادھرضلع گاندربل میں سب سے زادہ ووٹ پڑے ۔ جمہوری عمل میں 110برس تک کے عمر رسیدہ افراد سے لیکر نئے بنے دلہے تک نے شمولیت اختیار کی ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق لوک سبھا انتخابات 2024کے چوتھے مرحلے کے تحت سرینگر نشست میں سوموار کو پُر امن طریقے سے ووٹنگ کا عمل اختیام پذیر ہوا ۔ صبح سے ہی لوگ قطاروں میں ووٹ ڈالنے کیلئے اپنی باری کا انتظار کررہے تھے ۔ اگرچہ سرینگر میں صبح کے اوقات ووٹنگ کی شرح کم رہی تاہم دن بڑھنے کے ساتھ ساتھ لوگ گھروں سے باہر آتے گئے اور ریکارڈ توڑ تعداد میں ووٹ ڈالتے گئے ۔ سری نگر لوک سبھا سیٹ کے لئے پیر کی صبح سے سخت سیکورٹی بند وبست اور خوشگوار موسم کے بیچ 24 امید واروں کے قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے پولنگ کا عمل پر امن طریقے سے دن بھر جاری رہا جس دوران کنگن میں سب سے زیادہ 55.55فیصد جبکہ حبہ کدل میں سب سے کم 13.25 فیصد پولنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وسطی شالہ ٹینگ میں 24,76فیصد، چاڈورہ میں 46.60 فیصد، چرار شریف میں53.23فیصد، عید گاہ میں 25.68 فیصد، گاندربل میں 46.81فیصد، حبہ کدل میں 22.18 فیصد، حضرت بل میں 26.28فیصد، کنگن (ایس ٹی) میں55.55فیصد، خان صاحب میں 48.50فیصد، خانیار میں 23.6فیصد، لالچوک میں 26.01 فیصد، پامپور میں 35.86فیصد، پلوامہ میں 39.25فیصد، راجپورہ میں 42.80 فیصد، شوپیاں میں 45.04 فیصد، ترال میں 37.52 فیصد اور جڈی بل میں27.52فیصد پولنگ ریکارڈ ہوئی ہے۔اس سیٹ کے تمام پولنگ مراکز پر پولنگ صبح کے ٹھیک 7 بجے شروع ہوئی جو شام 6 بجے تک جاری رہے گی۔پانچ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی تنسیخ اور جموں و کشمیر کو دو یونین ٹریٹریوں میں منقسم کرنے کے بعد یہ جموں و کشمیر میں منعقد ہونے والے سب سے بڑی انتخابات ہیں۔وسطی و جنوبی کشمیر کے پانچ اضلاع سری نگر، بڈگام، گاندر بل، پلوامہ اور شوپیاں پر مشتمل سری نگر لوک سبھا سیٹ کی پولنگ کے لئے صبح سویرے سے ہی رائے دہندگان جن میں جوان، بزرگ اور خواتین شامل ہیں، کو اپنے اپنے پولنگ مراکز پر قطاروں میں دیکھا گیا۔حکام نے آزادانہ اور منصفانہ پولنگ کو یقینی بنانے کے لئے حلقے میں 2 ہزار 1 سو 35 پولنگ مراکز قائم کئے ہیں جہاں پولنگ عملے کے لئے تمام تر انتظامات کئے گئے ہیں۔جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے سمبورہ گائوں جو ایک زمانے میں علاحدگی پسندی کا گڑھ رہا ہے، میں بھی صبح سے ہی پولنگ کا عمل پر امن طریقے سے جاری تھا۔ سال 2019 اس سیٹ کے لئے ووٹنگ شرح 14.43 فیصد ریکارڈ ہوئی تھی اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے 48 ہزار 554 ووٹ لیکر کامیابی اپنے نام کی تھی انتخابی کمیشن کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سری نگر، بڈگام، پلوامہ، شوپیاں اور گاندربل اضلاع کے 15 اسمبلی حلقوں پر مشتمل سری نگر پارلیمانی حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 17 لاکھ 47 ہزار 810 ہے۔دریں اثناء یہ پہلی بار ہے کہ سرینگر نشست پر اس قدر لوگوں میں ووٹنگ کے تئیں ولولہ اور جوش دیکھنے کو ملا ۔