ہم نہ کسی کو دعوت دیں گے نا کسی کے دروازے پر جائے گی// فاروق عبداللہ
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاستی درجے (اسٹیٹ ہْڈ) کی بحالی کے مطالبے کو لے کر دہلی میں ہونے والے احتجاج میں شرکت کے لیے ان کی جماعت کسی سیاسی پارٹی کو باقاعدہ دعوت نہیں دے گی۔ تاہم جو بھی جماعت یا فرد اس مطالبے کی حمایت کرنا چاہتا ہے، وہ اپنی مرضی سے احتجاج میں شامل ہو سکتا ہے۔یو این ایس کے مطابق سری نگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے پر کسی کے سامنے درخواست یا اپیل لے کر نہیں جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ احتجاج میں شامل ہونا چاہتے ہیں وہ ضرور آئیں، لیکن ہم کسی کے پاس کشکول لے کر نہیں جائیں گے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ نیشنل کانفرنس نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے روز نئی دہلی میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا، جس کا مقصد جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ واپس دلانے کے مطالبے کو قومی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ ریاستی حیثیت کی بحالی عوامی خواہشات کے احترام اور جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔اس ضمن میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے حال ہی میں انڈیا اتحاد میں شامل جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کی حمایت میں احتجاج کا حصہ بنیں اور جموں و کشمیر کے عوام کے جائز مطالبے کی تائید کریں۔اروق عبداللہ سے جب پوچھا گیا کہ کیا نیشنل کانفرنس اس اہم مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کرے گی، تو انہوں نے کہا کہ ریاستی درجے کے معاملے پر پہلے ہی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں۔ ان کے مطابق اس مسئلے پر کسی بڑے اختلاف کی گنجائش نہیں کیونکہ جموں و کشمیر کے عوام کی اکثریت ریاستی حیثیت کی بحالی کو اپنا بنیادی حق سمجھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’جہاں تک ریاستی درجے کا تعلق ہے، سب لوگ متحد ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ جموں و کشمیر کے عوام کا جائز اور آئینی مطالبہ ہے۔‘‘سابق وزیر اعلیٰ سے جب جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی درجہ دوبارہ ملنے کے امکانات کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے محتاط انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔یو این ایس کے مطابق فاروق عبداللہ نے کہا، ’’میں خدا نہیں ہوں کہ یہ بتا سکوں کہ کیا ہوگا۔ یہ اللہ بہتر جانتا ہے اور وہ لوگ جانتے ہیں جو آج دہلی میں اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔‘‘انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کے خصوصی آئینی حقوق اور سابقہ حیثیت کی بحالی کے لیے اپنی سیاسی اور آئینی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق پارٹی نے اس مسئلے پر کبھی خاموشی اختیار نہیں کی اور نہ ہی آئندہ ایسا کرے گی۔انہوں نے کہا’’ہم پہلے دن سے اس جدوجہد میں شامل ہیں اور آج بھی اسی عزم کے ساتھ اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ ہم خاموش نہیں بیٹھے اور نہ بیٹھیں گے۔ ہم اپنی سیاسی اور آئینی لڑائی جاری رکھیں گے،‘‘ ۔فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ جمہوری نظام میں ہر شہری اور سیاسی جماعت کو اپنے حقوق کے تحفظ اور مطالبات کے حق میں آواز بلند کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر سے جو حقوق اور اختیارات چھینے گئے ہیں، ان کے خلاف احتجاج کرنا اور ان کی بحالی کا مطالبہ کرنا مکمل طور پر آئینی اور جمہوری حق ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس آئین نے یہ حق دیا ہے کہ ہم اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کریں اور ان فیصلوں کے خلاف آواز اٹھائیں جنہیں ہم اپنے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ جموں و کشمیر کو اگست 2019 میں ریاست سے مرکزی زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) بنایا گیا تھا، جس کے بعد مختلف سیاسی جماعتیں مسلسل ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ نیشنل کانفرنس اس مطالبے کو اپنی سیاسی ترجیحات میں سرفہرست قرار دیتی ہے اور پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ریاستی حیثیت اور عوامی حقوق کی بحالی تک ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔










