45ملزمان PSAکے تحت جیلوںمیں بند،36.38کروڑ کی نشہ آور اشیاء ضبط
سری نگر//جموں وکشمیر پولیس نے شمالی کشمیرمیں منشیات اسمگلنگ کاقلع قمع کرنے کیلئے رواں سال بارہمولہ اور کپوارہ اضلاع میں 45منشیات فروشوں کیخلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرکے سبھی ملزمان کو جیلوںمیں منتقل کردیاجبکہ اس دوران ہیروئین،برائون شوگر اور چرس سمیت مختلف اقسام کی تقریباً36کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی ممنوعہ نشہ آور اشیاء برآمد کرکے ضبط کی گئیں ۔جے کے این ایس کے مطابق منشیات ا سمگلروں کیخلاف کریک ڈاؤن اور معاشرے سے اس لعنت کو ختم کرنے کے مقصد سے جاری اپنی مسلسل مہم میں، جموں و کشمیر پولیس نے جاریہ سال کے دوران شمالی کشمیر کے جڑواں اضلاع بارہمولہ اور کپواڑہ میں 45 افراد کے خلاف سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت مقدمات درج کئے۔دستیاب تفصیلات بتاتی ہیں کہ ضلع بارہمولہ میں پولیس نےNDPS ایکٹ کے تحت درج 90 مقدمات میں 121 افراد کو گرفتار کیا اور ممنوعہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی (اعلیٰ) ڈگری کا پتہ لگانے پر ان میں سے12کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت سفارش کی اور مقدمات درج کئے گئے۔اس دوران کروڑوں روپے مالیت کی نشہ آور اشیاء کوضبط کیاگیا۔تفصیلات کے مطابق ضبط شدہ ممنوعہ اشیاء کی مالیت آج تک تقریباً 36.38 کروڑ بنتی ہے،جس میںبراؤن شوگر2.241 کلوگرام (تقریباً 2.24 کروڑ روپے)، ہیروئن 34.642کلوگرام (تقریباً 33.94 کروڑ روپے) اور چرس 5.94کلو کلو گرام(20لاکھ روپے) شامل ہے۔اسی طرح پڑوسی ضلع کپواڑہ میں (جاری سال میں اب تک) نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکوٹرپک مادہ ایکٹ کے تحت 85 مقدمات میں کل161 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان 161افراد میں سے33 افراد کو PSA (PIT-NDPS ایکٹ) کے تحت حراست میں لے کر مختلف جیلوں میں بند کیا گیا ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ دونوں اضلاع بارہمولہ اورکپوارہ میں پولیس کے اعلیٰ افسران نے ماضی میں منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔انہوںنے کہاکہہم دونوں اضلاع میں اس طرح کی سرگرمیوں پر مسلسل نگرانی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔پولیس ذرائع نے مزید بتایا کہ نہ صرف سرگرمی میں براہ راست ملوث افراد کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے، بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سال بھر خاص طور پر تعلیمی اداروں میں سیمینار منعقد کئے ہیں تاکہ لوگوں بشمول نوجوانوں اوربچوں کو منشیات کے استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں آگاہی دی جاسکے۔انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے باز رہیں، جس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔










