ہر روز ایک ہزار سے 1500تک میوہ بردار گاڑیاں بیرونی منڈیوں تک پہنچ جاتی ہیں
سرینگر/// میوہ سیزن میں وادی سے ہر روز ایک ہزار سے 1500میوہ بردار گاڑیاں بیرونی منڈیاںپہنچائی جارہی ہیں۔ یہ پہلی بار ہے اس طرح گاڑیاں بلا رکاوٹ سفر جاری رکھتی ہیں۔ایل جی انتظامیہ کی کوششوں کی بدولت میوہ بردار گاڑوں کوکہیں پر بھی روکا نہیں جارہا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق میوہ کی پیداوار میں اگرچہ اس رواں سال کمی واقع ہوئی کیوں کہ وقت پر موسم خشک نہ رہنا اور بے موسم بارش سے میوہ کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی تاہم رواں سیزن سرینگر جموں شاہراہ پر بلاخلل گاڑیاں منڈیوں تک پہنچ جاتی ہیں ۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق سرینگر جموں شاہراہ پر جہاںمیوہ گاڑیوں کو ٹریفک ون وے ہونے اور سڑک کی حالت خراب رہنے کی وجہ سے شاہراہ پر دو دو تین تین دن رکنا پڑتا تھا اور کبھی کبھی ہفتہ بھر گاڑیاں درماندہ رہ جاتی تھیں جس کی وجہ سے میوہ گاڑیوں میںہی خراب ہوجاتا تھا تاہم رواں برس ایل جی انتظامیہ خاص طور پر چیف سیکریٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا کی کوششوں کی وجہ سے شاہراہ پر کہیں پر بھی گاڑیوںکو روکا نہیں جاتا ہے اور میوہ بردار گاڑیاں بلا رکاوٹ بیرون منڈیوں جن میں چندی گڑھ ، ہریانہ، نئی دلی ، کولکتہ ، چنائی وغیرہ پہنچ جاتی ہیں اور رواں برس مال کی خریدوفروخت بھی اچھے داموں ہورہی ہے جس کی وجہ سے میوہ کاشتکار اور میوہ تاجروں کی پریشانیاں کم ہوئیں اور وہ اس سال اطمینان کااظہار کررہے ہیں ۔ کئی ایک تاجروںنے بتایا کہ رواں برس موسم کی وجہ سے اگرچہ نقصان ہواتاہم بیرون منڈیوں میں میوہ وقت پر پہنچ جانے نے دام بھی بہتر مل رہا ہے ۔واضح رہے کہ جموں کشمیرمیں میوہ صنعت سیاحت کے بعد سب سے بڑی صنعت مانی جاتی ہے جس کے ساتھ بلواسطہ یا بلا واسطہ قریب 35لاکھ افراد منسلک ہیں ۔ اور جموں کشمیر کی مجمودی جی ڈی بی میں میوہ صنعت کا قریب 8فیصدی حصہ شامل ہے ۔










