راجوری قصبہ میں دفعہ144کے تحت پابندیاں عائد

لوگوں کوگھروںمیں رہنے کامشورہ،پولیس وفورسز کی اضافی نفری تعینات

راجوری//جموں صوبہ کے سرحدی قصبہ راجوری میں جمعہ کومعمول کی عوامی نقل وحمل اورکاروباری سرگرمیاں مسدودہوکررہ گئیں ،کیونکہ حکام نے 2گروپوں کے مابین زمین تنازعہ کے پیش نظر بطوراحتیاطی اقدام کے دفعہ144کے تحت پابندیاں عائدکردیں ،اورلوگوں کوگھروںمیں رہنے کامشورہ دیاگیا۔جے کے این ایس کے مطابق جموں و کشمیر کے راجوری قصبے میں حکام نے جمعہ 9ستمبر2022 کو علاقے میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 کے تحت پابندیوں کا اعلان کیا اور لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا۔عہدیداروں نے بتایا کہ یہ پابندیاں ڈپٹی کمشنر راجوری وکاس کنڈل جوکہ ضلع مجسٹریٹ بھی ہیں، کے حکم پر لگائی گئی ہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام لوگوں کے2 گروپوں کے درمیان زمینی تنازعہ کے پیش نظر کیا گیا احتیاطی اقدام ہے۔پولیس کی گاڑیوں پر لگے لائوڈا سپیکروں کے ذریعے علاقہ مکینوں کو پابندیوں سے آگاہ کیا گیا۔لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے پولیس نے اعلان کیاکہ ہم لوگوں کو مطلع کرتے ہیں کہ راجوری قصبہ میں سی آر پی سی کی دفعہ 144 کے تحت پابندیاں عائد کی گئی ہیں،اسلئیلوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔لوگوں کی نقل و حرکت کو روکنے کے لئے کچھ حساس علاقوں میں خاردار تاریں بھی لگائی گئی ہیں، اس کے علاوہ اہم اورحساس مقامات پر پولیس وفورسز کی اضافی نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144کے تحت4ر یا اس سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کرتی ہے۔تحصیلدار کے حکم کے مطابق،رام پورراجوری میں واقع متنازعہ زمین کو سیکشن 145 سی آر پی سی کے تحت منسلک کر دیا گیا ہے اور اسے ایس ایچ اوئوز کے سپردنامہ (حفاظتی/نگرانی) کے تحت رکھا گیا ہے جب تک کہ مجاز عدالت کی طرف سے کیس کا فیصلہ نہیں ہو جاتاہے۔اسے پہلے جمعرات کو راجوری شہر کے وسط میں دونوں برادریوں کے لوگوں نے زمین کے ایک حصے پر اپنا دعویٰ پیش کیا تھا، جس کے بعد ہندو برادری کے لوگ اس جگہ کو مندر جبکہ مقامی مسلمان مسجد کی جگہ بتارہے تھے، جس کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔اس خدشے کے پیش نظرحکام نے جمعے کو صبح 5 بجے سے پورے راجوری قصبہ میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ نہ کوئی شخص گھر سے باہر نکل سکتا ہے اور نہ ہی کوئی گاڑی سڑکوں پر چل سکتی ہے۔ راجوری قصبہ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور نیم فوجی دستے مسلسل گشت کر رہے ہیں اور سڑکوں پر نکلنے والوں کو ان کے گھروں کو واپس بھیج دیا جا رہا ہے۔