سری نگر//صوبہ جموںکے سرحدی ضلع راجوری کے اَپرڈانگری گاؤں میں فائرنگ اور دھماکے کی زدمیں آکر2بچوں سمیت7افراد کی ہلاکت میں ملوث حملہ آوروں کی تلاش تیزکردی گئی ہے ،اور پولیس نے ابتک 50سے زیادہ مشتبہ افراد کوپوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لے لیا ہے ۔اس دوران ملوث ملی ٹنٹوں کے بارے میں کچھ اہم سراغ ملنے کے بعدسیکورٹی فورسزنے بڑے پیمانے پرتلاشی مہم جاری رکھی ہے اورابتک متعدد دیہات وبستیوںمیں تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ راجوری کوپونچھ اور جموں سے ملانے والی شاہراہوں پر اضافی چیک پوائنٹس قائم کرکے چوکسی مزید سخت کردی گئی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق راجوری کے ڈانگری گائوںمیں مشتبہ ملی ٹنٹو ںکی فائرنگ اور نصب کردہ بارودی سُرنگ پھٹ جانے کے نتیجے میں 7عام شہریوںکے ازجان اوردیگر11کے زخمی ہوجانے کے بعدجموں وکشمیر پولیس نے فورسزاور فوج کے اشتراک سے حملہ آوروں اوراس سازش میں شامل افراد کی تلاش کاکام تیز کردیاہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتک 50سے زیادہ مشتبہ افراد کوپوچھ تاچھ کیلئے حراست میں لے لیا گیاہے ۔حکام کے حوالے سے میڈیا رپورٹ میں بتایاگیاکہ حملے کے بعد، انتظامیہ نے مقامی رضاکاروں اور سرحدی گرڈ پر مشتمل ولیج ڈیفنس گارڈز (VDGs) کو مضبوط کیا تاکہ دراندازی کے ممکنہ راستوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔حکام کا کہنا تھا کہ شہری ہلاکتوںمیں ملوث اورشامل ملی ٹنٹوں کے بارے میں مصدقہ اطلاع دینے والے کو10 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کرنے والے پولیس پوسٹر بھی ضلع کے مختلف مقامات پر سامنے آئے ہیں۔ادھر جموں وکشمیرپولیس اور سی آر پی ایف کا مشترکہ محاصرہ اور تلاشی آپریشن2 درجن سے زائد دیہاتوں میں جاری ہے جہاں حملے سے پہلیملی ٹنٹوں کی موجودگی کی اطلاعات تھیں، حکام نے بتایا کہ جموں و کشمیر پولیس کی خصوصی آپریشنل ٹیمیں راجوری کے باہر سے منتقل ہوئیں، کو بھی مقررہ جگہوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔راجوری کے سینئر سپرانٹنڈنٹ آف پولیس محمد اسلم نے بتاہے کہ ڈانگری حملے میں ملوث دہشت گردوں کو بے اثر کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشن جاری ہے۔انہوںنے کہاکہ حملہ آوروں کے بارے میں کچھ اہم سراغ ملے ہیں اور ہم مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کیلئے ان پر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس کے ساتھ سی آر پی ایف کے اضافی دستوں کو حساس علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ چوکسی کو مضبوط کیا جاسکے۔حکام نے بتایا کہ جاری آپریشن کے دوران اب تک50 سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے دہشت گردوں کے ساتھ مبینہ روابط کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کے دوران کئی اہم سراغملے ہیں اور یہ تقریباً واضح ہے کہ دہشت گرد حملہ کرنے سے پہلے راجوری قصبے میں موجود تھے۔حکام نے بتایا کہ پولیس نے لائن آف کنٹرول کے قریب سیکورٹی بڑھانے کے لئے سرحدی چوکیوں پر اضافی اہلکار بھی تعینات کئے گئے ہیں تاکہ دراندازی کے بدنام راستوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔










