دہلی عدالت نے تین ملزمان کو 15 جون تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا

نئی دہلی/آئی اے این ایس// قومی اہلیتی و داخلہ امتحان (نیٹ۔ یوجی2026) کے مبینہ پرچہ افشاء معاملے میں دہلی کی ایک عدالت نے تین ملزمان کو 15 جون تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ اس مقدمہ کی تحقیقات مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کر رہا ہے۔راؤز ایونیو عدالت نے لاتورکے ڈاکٹر منوج شیرورے، پونے کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے استاد تیجس ہرشاد کمار شاہ اور منیشا سنجے ہولدارکو دو ہفتوں کے لیے عدالتی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا۔سی بی آئی نے یہ مقدمہ 12 مئی کو مرکزی وزارتِ تعلیم کے محکمہ اعلیٰ تعلیم کی شکایت پر درج کیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق ڈاکٹر منوج شیرورے نے امتحان سے قبل مبینہ طور پر تین طلبہ کو کیمسٹری کے سوالات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جن میں ایک کوچنگ سینٹرکے مالک کے بیٹے کا نام بھی شامل ہے۔تحقیقات کے مطابق تیجس شاہ، جو پونے کی ایک میڈیکل اکیڈمی میں طبیعیات کے استاد ہیں، کو مبینہ طور پر طبیعیات کے لیک شدہ سوالات شریک ملزمہ منیشا ہولدار سے موصول ہوئے تھے۔سی بی آئی نے کہا ہے کہ یہ گرفتاریاں ایک وسیع نیٹ ورک کی تحقیقات کا حصہ ہیں، جو امتحان سے قبل سوالیہ پرچے حاصل کرنے اور پھیلانے میں ملوث ہونے کے شبہ میں زیرِ تفتیش ہے۔ ایجنسی اب تک ملک بھر میں49 مقامات پر چھاپے مارچکی ہے اور متعدد اہم دستاویزات، لیپ ٹاپ اور موبائل فون ضبط کیے جا چکے ہیں، جن کا تفصیلی تجزیہ جاری ہے۔دریں اثنا پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم، خواتین، اطفال، نوجوانان اور کھیل بھی نیٹ اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) سے متعلق معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔ کمیٹی امتحانی نظام، قلم وکاغذ کے ذریعے امتحان لینے یا کمپیوٹر بیسڈ ٹسٹ کے طریقہ کار اور پرچہ لیک معاملے کے مختلف پہلوؤں پر غورکر رہی ہے۔