power

دوسو یونٹ مفت بجلی صارفین کوفراہم کرنے سے سرکاری خزانے کوایک ہزار کروڑ کااضافی بوجھ برداشت کرنا پڑیگا

جموں وکشمیر کے لئے ہرسال انتظامیہ پانچ سو کروڑ خریدنے پر خرچ کرتی ہے /ماہرین

سرینگر//اقتصادی ماہرین نے اس بات کااظہار کیاکہ پاور کارپوریشن 19ہزار سات سو 62کروڑ کی مقروض ہے اور سینکڑوں یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے پر سالانہ ایک ہزار کروڑ روپے کے اضافی بوجھ کا سرکاری خزانے کو سامناکرناپڑیگا اور پانچ سال کے دوران یہ رقم پانچ سے سا ت ہزار کروڑ روپے تک جاپہنچے گی اتنی بڑی مقدار میں رقومات مرکزی سرکار کوئی بھی ہوفراہم نہیں کریگی تو پھرسیاسی پارٹیاں اس بوجھ کو کم کرنے کے لئے کیااقداما ت اٹھانے جارہی ہے اسکی انہیں آج ہی وضاحت کرنی چاہئے ۔اے پی آئی نیوز کے مطابق نیشنل کانفرنس پی ڈی پی نے بلاترتیب جموں وکشمیر کے صارفین کو دوسو یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا اپنے منشور میں اعلان کیاجبکہ اپنی پارٹی ایک قدم آگے بڑھی وہ تین سو یونٹ گرمیوں میں اور پانچ سو یونٹ سردیوں میں جموںو کشمیرکے صارفین کوفراہم کرنے کاوعدہ کرتی ہے ۔ماہراقتصادیات نے اس بات پرحیرانگی کااظہارکیاکہ یہ با ت اظہرشمس ہے کہ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن 19ہزار 762کروڑ کی ابھی تک مقروض ہے اور ہرسال جموںوکشمیر انتظامیہ کو بجلی خریدنے پر پانچ سو کروڑ روپے خرچ کرنے پڑتے ہے تاکہ جموں کشمیرکے صارفین کوزیادہ کٹوتی کاسامناناکرنا پڑے ۔ماہرین کے مطابق نیشنل کانفرنس برسر اقتدار آئی اور اس نے مفت بجلی فراہم کرنے کاجواعلان کیااس پرعمل کرناشروع کیاتو ایک سال میں جموںو کشمیر کے سرکاری خزانے کوایک ہزارکروڑ روپے کے اضافی بوجھ کاسامناکرناپڑیگا س کے علاوہ پانچ سو کروڑ روپے بجلی خریدنے پرخرچ کرنے پڑے گے ۔ماہری اقتصادیات کے مطابق منشور بنانے والے یات جموںو کشمیرکی مخلوق نہیں ہے یاپھرانہیں معیشت یااقتصادیات کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے جمع تفریق کرکے ریاستوں ملکیوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کی بجٹ نہیں بنائی جاتی ہے اسکے لئے ٹیکس امدانی کے وسائل ڈھونڈنے پڑتے ہے۔ ماہر اقتصادیات کے مطابق جموں وکشمیرمیں بیس ہزار 296میلن یونٹ بجلی کی پیداوار ہے اور ا سکے باوجود جموں کشمیر انتظامیہ کوسالانہ پانچ سو کروڑ روپے بجلی پرخرچ کرنے پڑتے ہے اتر پردیش ،گجرات، راجھستان، نئی دہلی ،ہریانہ سے بجلی خریدنے کی کارروائیاں انجام دی جاتی ہے یہاں تک کہ پنجاب کے سامنے ہم کشکولے کرجانے سے گریز نہیں کرتے ہے ۔ماہراقتصادیات کے مطابق سیاسی پارٹیاں عام انسان کوراحت پہنچا چاہتے جولازمی ہے کتنابہترہوتا کہ اگروہ صارفین کواپنے منشور میں یہ یقین دہانی کرتے کہ جوفیس انہیں بقایاہے ا سکی دی گئی رقم وہ سرکاری خزانے میں داخل کرے ہم معاف کرینگے او رجوفیس کی شرح پاور ڈیولپمنٹ ریگولیشن کمشن کی جانب سے مقرر کی گئی ہے اس میں کمی کردی اگر دو ہزارروپے عام صارف کو بجلی کی صورت میں ادا کرنے پڑتے ہے تو ا سے ایک ہزا ر ا سے سرکاری خزانے کوزیادہ بوجھ برداشت نہیں کرناپڑیگا ۔ماہری اقتصادیات نے سیاسی پارٹیوں کے اس دعوے کوشیخ چلی کاخواب قرار دیتے ہوئے کہااگر اس پر عمل کیاگیا تو پاور ڈیولپمنٹ کارپویشن دیوالیہ ہوگی ملک کی وہ ریاست یامرکزی زیرانتطام علاقہ جموںو کشمیرکواُدھار بجلی فراہم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگی ۔ماہراقتصادیات نے ا س بات پربھی حیرانگی کااظہارکیاکہ جموںو کشمیر کے لوگ بالعموم اوروادی کشمیرکے لوگ بالخصوص زرعی پیداوار میں ملکی کسی ریاست یامرکزی زیرانتظام علاقے کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔ فوڈ کارپوریشن آف انڈیاجس دن جموں وکشمیرکے لوگوں کے لئے غذائی اجناس دینابندکردی گی وادی کشمیرمیں لوگ فاقہ کشی کے شکار ہونگے مانا کہ ایسی کوئی صورتحال پیش نہیں آئی گی تاہم وادی کشمیرمیں جس تیزی کے ساتھ فصلوں کی پیداوار کم ہورہی ہے اور اسکی طرف توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ کھیتوں کوسیراب کرنے نئی نہریںکھودنے او رجوویران علاقوں میںراضی پڑی ہے ا سے قابل کاشت بنانے کے لئے کسی پارٹی نے اپنے منشور میں اسکی ذکر تک نہیں کی ۔ماہرین کے مطابق قومی وہ ترقی کرتے ہے جو مفت بجلی پانی یادوسری ضروریات سرکار کوباضابطہ طور پر ٹیکس فراہم کرے اور ا سکے بدلے جراثیم کش ادویات کھاد اعلی میعا رکے بیج فراہم کرنے کے لئے سرکا رنے سبسڈی فراہم کرے سرکار کومجبورکرے کہ ان کی فصلوں کی پیداوار کو بہتر سے بہترقیمت اد اکی جائے وہ قومیں ترقی نہیں کرتے ہے جومفت خوری کے عادی ہوسیاسی پارٹیوں کاسات عام بجا گرجموں کشمیرکوترقی کی منزلوں پرلے جانے کے لئے ایسے ماہراقتصادیات کی کوئی ضر ورت نہیں جوجموں وکشمیرکے اداروں کو دیوالیہ بنانے کے د رپر ہے ۔