ایک مرتبہ پھر دہشت پھیلانے کی سازش :سیکورٹی ایجنسیاں
سری نگر//سیکورٹی ایجنسیوںنے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ سال2017اور2018کی طرح پولیس وسیکورٹی اہلکاروںکی اغواکاری کی وارداتیں عمل میں لاکر سرحد پار سے جموں وکشمیرمیں ایک مرتبہ پھر دہشت پھیلانے کی سازش رچی گئی ہے،اورکولگام میں فوجی جوان کالاپتہ ہونا اس سازش کی ایک کڑی یاکوشش ہوسکتی ہے۔قابل ذکرہے کہ اچھ تل کولگام کے فوجی جوان جاوید احمدوانی گزشتہ سنیچر29جولائی کولاپتہ ہوگیاتھا اور6دن گزرنے کے باوجود ابھی تک اسکاکوئی سراغ نہیں مل سکاہے۔جے کے این ایس کے مطابق سیکورٹی حکام کے حوالے سے ایک میڈیا رپورٹ میںبتایاگیاکہ دفعہ370کی منسوخی سے قبل اس کا آغازمئی 2017 میں جنوبی کشمیر میں لیفٹیننٹ عمر فیاض کے اغوا اور قتل کے بعد شروع ہواتھا،اوراسکے بعدسال2018میں پولیس اہلکاروں کے اغوا اور قتل کے کئی واقعات بھی رونما ہوئے۔سیکورٹی ایجنسیوںکا مانناہے کہ کولگام میں مقامی فوجی جوان جاوید احمدوانی کی گمشدگی اصل میں اغواکاری کامعاملہ ہے تاکہ جموںوکشمیرمیں پھر سے دہشت پھیلانے کی کوشش کی جائے اوریہ سازش سرحدپاررچی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ جاوید وانی کااغوادفعہ370کی منسوخی کے بعد جموں وکشمیرمیں اس نوعیت کاپہلاواقعہ ہے ۔دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد سیکورٹی فورسز کی سختی کی وجہ سے پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کے اغوا اور قتل کے واقعات پر بریک لگ گیا تھا۔ آخری مرتبہ مئی 2020 میں ایک پولیس اہلکار کو دہشت گردوں نے شوپیاں سے اغوا کیا تھا، لیکن بعد میں اسے بحفاظت رہا کر دیا گیا تھا۔ اس سال اپریل میں اننت ناگ کے ارونی علاقے میں بھی اغوا کی کوشش کی گئی تھی لیکن اغوا کرنے والے2 دہشت گرد مقابلے میں مارے گئے تھے۔اس دوران معلوم ہواکہ تمام ترکوششوں اورتلاشی کارروائی کے باوجودگزشتہ ہفتہ کی شام کولگام میں لاپتہ ہونے والے فوجی جوان جاوید وانی کاہنوز کوئی سراغ نہیں مل سکاہے جبکہ پولیس چیف دلباغ سنگھ نے منگل کویہاں ایک تقریب میں کہاکہ اس سلسلے میں کچھ اہم سراغ ملے ہیں اوراس معاملے کو جلد حل کیا جائیگا۔










