دفعہ 370کی منسوخی کے بعد کشمیر میںتعمیر و ترقی کا نیا دور چل پڑا

انتخابی عمل میں لوگوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا جس سے جموں و کشمیر میں رائے شماری کے فیصد کے نتائج ظاہر ہو رہے ہیں

سرینگر//وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ جموںکشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوچکا ہے اور اس میں حائل رکاوٹوںکو مرکزی سرکار نے دور کرنے کا تہیہ کررکھا ہے اور ہر اس رکاوٹ کودور کیا جائے گا جو خطے کی بہتری اور امن و سلامتی کیلئے ضروری ہوگی ۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے منگل کو کہا کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے نریندر مودی حکومت کے فیصلے سے جموں و کشمیر میں رائے شماری کے فیصد کے نتائج ظاہر ہو رہے ہیں اور اس سے جمہوریت پر لوگوں کا اعتماد بڑھا ہے۔وزیر داخلہ کا یہ تبصرہ سری نگر لوک سبھا حلقہ میں تقریباً 38 فیصد پولنگ کے ایک دن بعد آیا ہے جہاں عام انتخابات کے چوتھے مرحلے میں پولنگ ہوئی تھی۔وائس آف انڈیا کے مطابق وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ جموںکشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوچکا ہے اور اس میں حائل رکاوٹوںکو مرکزی سرکار نے دور کرنے کا تہیہ کررکھا ہے اور ہر اس رکاوٹ کودور کیا جائے گا جو خطے کی بہتری اور امن و سلامتی کیلئے ضروری ہوگی ۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ بی جے پی نے 1952میں جن سنگھ دور میں کشمیر سے دفعہ 370ہٹانے کاانتخابی منشور میں اعلان کیا تھا اور حکومت آتے ہی اس پر عمل کیا گیا اور کشمیر کو دفعہ 370سے آزاد کیا گیا ۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ بی جے پی نے وہ سب کیا جس کا وعدہ اْسنے جن سنگھ کے دور سے کیا تھا۔ 1951 جن سنگھ سربراہ شیاما پرساد مکھرجی کی قیادت میں ہوئے انتخاب میں جاری انتخابی منشور میں کہا تھا کہ اگر ہماری حکومت پوری طاقت میں آتی ہے تو کشمیر کی خصوصی دفعہ ہٹا دی جائے گی 1984 کے انتخابی منشور میں رام مندر کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا جیسے ہی بی جے پی کو موقع ملا تو اپنا وعدہ نبھایا، ایک رات میں کشمیر کو 370 سے آزاد کر دیا آج رام مندر تعمیر ہو رہا ہے۔ملک کے بٹوارے کے وقت کچھ وجوہات سے ہندو سیکھ عیسائی یہودی پاکستان میں رہ گئے۔سری نگر میں 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں 14.43 فیصد، 2014 میں 25.86 فیصد، 2009 میں 25.55 فیصد اور 2004 میں 18.57 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے ‘X’ پر لکھا کہامودی حکومت کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے فیصلے کے نتائج بھی رائے شماری کے فیصد میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ اس نے جمہوریت پر لوگوں کے اعتماد کو بڑھایا ہے اور جموں و کشمیر میں اس کی جڑیں گہری ہوئی ہیں۔شاہ نے کہا کہ رائے شماری کے فیصد میں اضافے کے ذریعے جموں و کشمیر کے لوگوں نے ان لوگوں کو منہ توڑ جواب دیا ہے جنہوں نے دفعہ 370 کی شقوں کو منسوخ کرنے کی مخالفت کی اور اب بھی اس کی بحالی کی وکالت کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پارلیمانی انتخابات کے چوتھے مرحلے کے تحت کشمیر میں سرینگر نشست پر ووٹ ڈالے گئے اور یہ الیکشن دفعہ 370کی منسوخی کے بعد پہلی بار ہوئے ہیں جس میں مجموعی طور پر 38فیصدی ووٹران نے شرکت کی ۔