درجنوں قدرتی چشموں سے مالامال پانزت گاؤں دنیا کی نظروں سے اوجھل

گاؤں میں ہر برس مئی کے مہینے میں مچھلیاں پکڑنے کا ایک میلہ منعقد کیا جاتا ہے

سرینگر//قدرت نے جہاں وادی کشمیر کے ذرے ذرے کو اپنی کاریگری سے سجایا ہے وہیں اپنی بے شمار نعمتوں سے بھی نوازا ہے، یہاں کے لاتعداد قدرتی چشمے ان ہی نعمتوں میں سے ایک ہیں۔ یہ قدرتی چشمے نہ صرف یہاں کے آبی وسائل کی پیداوار کے لیے اہمیت کے حامل ہیں بلکہ یہ سرسبز و شاداب وادی کو دیدہ زیب بناتے ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ کا ایک ایسا گاؤں جہاں قریب پانچ سو قدرتی چشمے موجود ہیں۔ اس گاؤں کا نام پانزتھ ہے۔ سینکڑوں صاف و شفاف قدرتی چشمے، سر سبز میدان، قد آور اور لہلہاتے چنار اس گاؤں کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتے ہیں۔ گاؤں کی بیشتر آبادی زمینداری سے منسلک ہے اور کھیتی یہاں کا ذریعہ معاش ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک زمانہ میں اس گاؤں کے مختلف مقامات پر چھوٹے چھوٹے 5 سو چشمے بیک وقت پھوٹ پڑے تھے، ان تمام چشموں کا پانی ایک جگہ جمع ہو جاتا ہے، جو آج پانزتھ ناگ کے نام سے مشہور ہے۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق قاضی گنڈ علاقے سے محض دو کلومیٹر دور اس چشمہ سے 35 گاؤں کو پینے کا پانی فراہم ہوتا ہے۔ اس قدرتی چشمہ میں مچھلیوں کی ایک خاصی تعداد بھی موجود ہے۔ چشمہ میں کشمیری مچھلی کے علاوہ ٹراوٹ مچھلی بھی پائی جاتی ہے۔مذکورہ گاؤں میں ہر برس مئی کے مہینے میں مچھلیاں پکڑنے کا ایک میلہ منعقد کیا جاتا ہے جس میں سینکڑوں مقامی لوگ، پانزتھ ناگ میں مچھلیاں پکڑنے کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ مچھلیاں پکڑنے کے ساتھ ساتھ لوگ چشمے کی بھرپور صفائی بھی کرتے ہیں۔ جس سے کھیتوں کی سینچائی کے لئے راہ بھی ہموار ہو جاتی ہے۔ دراصل اس مچھلی میلے کا تعلق زراعت کے ساتھ بھی ہے۔ جس کا انعقاد دھان کی پنیری لگانے سے قبل کیا جاتا ہے۔ماضی میں کئی معروف سیاستدانوں نے اس گاؤں کا دورہ کیا اور پانزتھ گاؤں کو سیاحتی ولیج بنانے کا وعدہ بھی کیا لیکن ان کے وعدے کھوکھلے ثابت ہوئے۔ مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانزتھ گاؤں کو سیاحتی نقشہ پر لایا جائے تاکہ یہاں روزگار کے وسائل پیدا ہو سکیں۔